کراچی: سندھ حکومت نے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محکمہ زراعت کے تمام افسران اور عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
محکمہ زراعت میں ہنگامی اقدامات
ڈی جی زراعت کے دفتر حیدرآباد میں رین ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا۔30 اضلاع میں ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا تاکہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں فوری رابطہ ممکن ہو۔صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے ہدایت کی کہ زرعی مشینری اور بلڈوزر ہر وقت تیار رکھے جائیں اور افسران پی ڈی ایم اور دیگر اداروں سے رابطے میں رہیں۔کسانوں کی رہنمائی کے لیے حیدرآباد میں 24/7 رین ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔تمام افسران روزانہ کی بنیاد پر سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو کو رپورٹ پیش کریں گے۔سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے گی، جیسے کہ بیج، کھاد اور زرعی آلات۔ہیلپ لائن نمبر 0311-1164611 فعال کر دیا گیا ہے۔
صوبائی انتظامیہ اور دیگر اقدامات
وزیراعلی سندھ نے دریاؤں کے لیفٹ اور رائٹ بینک پر وزرا کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں۔موسم کی شدت کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال کی نگرانی اور انتظامات کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری لائیو اسٹاک، تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر شریک ہوئے۔پنجند اور گڈو بیراج پر پانی کے بہاؤ پر نظر رکھی جا رہی ہے، پنجند پر 7 تا 8 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے۔آبپاشی کے عملے نے دریا کے بندوں پر ڈیوٹی دی ہوئی ہے اور کشتی کے ذریعے کچے سے پکے علاقے تک آمد و رفت کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔سانپ کے کاٹنے کے اینٹی وینم اور ریبیز ویکسینیشن کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
مقامی انتظامات
سندھ کے تمام اضلاع اور تحصیل سطح پر ایمرجنسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔افسران ڈیوٹی پر موجود رہیں گے تاکہ کسانوں کی فوری مدد ممکن ہو۔یہ اقدامات ممکنہ سیلاب سے کسانوں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور زراعت کو نقصان سے بچانے کے لیے کیے گئے ہیں۔