فرخ آباد، شفیق آباد،شاد باغ کھوکھر گائوں، بادامی باغ،فیروز والاکی کئی بستیوں ،سگیاں فش مارکیٹ،افغان کالونی،چوہنگ زیر آب

بڑا سیلابی ریلہ لاہور سے ٹکرا گیا 
سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری ، پنجاب میں 1400 بستیاں زیر آب،10لاکھ افراد متاثر، سندھ بھی الرٹ، بلوچستان حکومت بھی متحرک
 پانی کامران بارہ دری میں داخل، ،قصور، ساہیوال کیلئے 24گھنٹے اہم، نارووال شہر میں بھی سیلاب پہنچ گیا،سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کئی فٹ پانی ،فضائی آپریشن معطل،حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند،بہاولپور کے علاقوں میں انخلا کی ہدایت
لاہور( کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی جانب سے چھوڑا گیا بڑا ریلہ لاہور سے ٹکرا گیا ، رات گئے 2لاکھ20ہزار کیوسک کا ریلا شاہدرہ سے گزرا،راوی دریا کا پانی غیر متوقع طور پر لاہورکے بادامی باغ کے علاقہ میں داخل ہو گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ لاہور میں رِنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ کے علاقہ میں راوی کاسیلابی پانی داخل ہوا ہے شاہدرہ کی نشیبی آبادیوں عزیز کالونی اور فرخ آباد مین دریا کا پانی داخل ہوا ان علاقوں میں مکینوں نے انتظامیہ کے بار بار انتباہ کے باوجود علاقہ نہیں چھوڑا تھا، اب بہت سے مکین علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ کچھ اب تک اپنے پانی میں گھرے ہوئے گھروں میں بیٹھے ہیں ،سگیاں فش مارکیٹ حرنین پورہ،افغان کالونی سگیاں ، فرخ آباد ، ،نشتر کالونی میں موہلنوال، فیروز والاکی مختلف بستیوں میں پانی داخل ہو گیا چوہنگ کے علاقے منظور گارڈن، برکت کالونی میں پانی داخل ہو گیا شاد باغ کے قریب کھوکھر گاؤں میں بھی سیلاب کا پانی آبادی میں داخل ہو گیا امدادی ٹیم میں موقع پر نہ پہنچ سکی ،، شہری شدید پریشان ہیں اپنے گھروں کا سامان چھت پر منتقل کر رہے ہیں ،،فلڈ فارکاسٹنگ ڈویڑن کے مطابق، دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی، جہاں گزشتہ شام 6 بجے تک بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار 660 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ رات گئے بہاو 2لاکھ20ہزار کیوسک کو چھو گیا تھا ،، لاہور ڈویڑن میں 16کالجز ،2 میٹرو سٹیشنز بند ، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحانا ت ملتوی کردئیے گئے۔۔ ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسی، عزیز کالونی، قیصر ٹان، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہے۔ شیخوپورہ ،فیروزوالہ میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمال سیلاب کا خطرہ ہ موجود ہے،دریائے راوی میں سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 11 ہزار لوگوں،چار ہزار 500 جانور وں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے دریائے راوی میں شاہدرہ لاہور کے مقام سے 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک کا ریلا بآسانی گزارا جا سکتا ہے۔تاہم شاہدرہ کی جانب ملحقہ آبادیوں میں پانی بڑھنے لگا ہے۔لاہور کی پانچ تحصیلوں کے 22 موضع جات ضلعی انتظامیہ خالی کروا چکی ہے۔ راوی کا پانی کامران بارہ دری اور فرخ آباد کے رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہوگیا، تاہم انخلاکا عمل مکمل کرلیا گیا۔قریباً 100سے زائد گھر خالی کرائے گئے ہیں۔ فرخ آباد شاہدرہ کی آبادی نے بھی نقل مکانی شروع کر دی ہے۔لاہور میں نیازی اڈا اور شاہدرہ میٹروبس سٹیشنزبند کردئیے گئے۔ڈائریکٹر کالجز کے مطابق لاہور ڈویڑن میں جمعہ اور ہفتہ کیروز 16 کالجز بند رہیں گے جبکہ اتوار کو صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزید فیصلہ کیا جائے گا۔ جبکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے 30 اور 31 اگست کو ہونے والیانسپکٹر لیگل پنجاب پولیس اور دیگر محکموں کے امتحانات ملتوی کردئیے ہیں ، امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ترجمان کے مطابق 434 اسامیوں کے امتحانات میں 8 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کرنا تھی

سیالکوٹ، نارووال،شکرگڑھ( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث سیلاب سے پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی ،بستیاں اجڑ گئیں ، فصلیں تباہ ،11لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے،سیلاب میں پھنسے 51ہزار افراد کو ریسکیو کرلیا گیا،لاہور ،قصور اور ساہیوال کیلئے 24گھنٹے اہم بتائے گئے ہیںجبکہ حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجند،بہاولپور کے علاقوں میں انخلا کی ہدایت کردی گئی۔امدادی سرگرمیوں کیلئے پنجاب کے نویں ضلع لودھراں میں بھی فوج طلب کرلی گئی، اس سے قبل لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ، سرگودھا اور حافظ آباد میں فوج طلب کی جا چکی ہے،محکمہ داخلہ کے مطابق پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں9 ہزار سے زائد سول ڈیفنس رضاکار خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )نے ممکنہ متاثرہ اضلاع بشمول حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجنداور بہاولپور کے علاقوں میں انخلا کی کیلئے ہدایات جاری کر دیں،این ڈی ایم اے کے مطابق 31 اگست کو دوپہر 4 بجے کے قریب تریموں بیراج پر پانی کا بہا 7لاکھ سے 8لاکھ کیوسک تک متوقع ہے جس کے باعث شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،ممکنہ شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی۔ یہ سیلابی ریلے 3 ستمبر کی دوپہر تک پنجند تک پہنچیں گے جہاں 6لاکھ50ہزار سے7لاکھ کیوسک کا بہا وٓمتوقع ہے۔ دریائے چناب کے بائیں کنارے پر واقع 18 ہزاری کا علاقہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بریچنگ سائٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ آج 29 اگست کو صبح 7 بجے بلاکی بیراج پر ایک لاکھ50ہزار سے 2لاکھ کیوسک کے درمیان بلند سطح کا سیلاب متوقع ہے۔ یکم ستمبر تک سیلابی ریلہ سدھنائی تک پہنچے گا جو خطرناک حد تک ایک لاکھ 25ہزار سے ایک لاکھ 50ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔ ضلع شیخوپورہ ،ننکانہ صاحب کے علاقے گنیش پور اور ضلع قصور، پتوکی میں پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کے علاقے شامل ہیں۔ ضلع خانیوال میں غوث پور ،میاں چنوں، امیر گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم ،کبیروالہ، سیلاب کا شکار ہو سکتے ہیں۔حکومت پنجاب کے ایک اعلامیے کے مطابق اس وقت دریائے راوی میں پانی چڑھ رہا ہے اور اگلے چھ گھنٹے ایسے ہی رہنے کا امکان ہے جبکہ اگلے چوبیس گھنٹے قصور، لاہور اور ساہیوال کیلئیاہم قرار دے دئیے گئے ہیں۔پنجاب حکومت کے مطابق 11 لاکھ 40ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کئے گئے ہیں۔چناب میں سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 10 لاکھ 9 ہزار لوگوں کا انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، چناب میں سیلاب کے باعث کل 991 موضع جات زیر آب آئے۔ سیالکوٹ میں 395، جھنگ 127، ملتان 124، چنیوٹ 48، گجرات 66، خانیوال 51، حافظ آباد 45، سرگودھا 41، منڈی بہاوالدین 35 اور وزیر آباد میں 19 موضع جات سیلاب سے متاثر ہوئے۔۔ستلج میں شدید سیلاب کے پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کے تحت اب تک مجموعی طور پرایک لاکھ 27 ہزار لوگوں کا انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ستلج میں سیلاب کے باعث کل 361 موضع جات زیر آب آئے۔قصور میں 72، اوکاڑہ 86، پاکپتن 24، ملتان 27، وہاڑی 23، بہاولنگر 104 اور بہاولپور میں 25 موضع جات متاثر ہوئے۔ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 51 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 26 اگست مشکل ترین دن تھا۔پندرہ لاکھ چونتیس ہزار کیوسک پانی دریاوں اور نالوں میں سے گزرا ہے جبکہ نالہ ڈیک سے77800 کیوسک پانی گزرا ہے۔ابھی تک 17لوگ آ ٹھویں سپیل میں جاں بحق ہوئے ہیں ۔ادھر سیلاب میں ڈوبنے اورکرنٹ لگنے سے مزید 14 افراد جاں بحق ہوگئے،ظفر وال کے گاوٓں جلیل پور میں 22سالہ نوجوان احسن عباس جوہڑ میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگیا،چک حکیم میں ارسلان نامی نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گیا،لاش تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، بیجاپور کے مقام پر رشید نامی پچاس سالہ شخص بھی نالہ ڈیک کے سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔جنگو چک کا نوجوان وقار سیلاب میں پھنسے افراد کو بچاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔وزیرآباد کے علاقہ سوہدرہ کے قریب سیلاب سے مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کرتے 2نوجوان ڈوب گئے،چاند عباس جاں بحق ہوگیاجبکہ وقار گجر کو بچالیا گیا۔سیالکوٹ میں تھانہ کینٹ کے علاقہ سد ھ کا رہائشی 58سالہ ذوالفقاربیٹی کی خیریت دریافت کرنے کے لئے کلی صلاح جاتے ہوئے برساتی نالے کی تیز لہروں میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ ڈوگرانوالہ کے رہائشی دو لڑکے علیم اور منیب موٹر سائیکل پر قریبی گاوٓں مانانوالا جاتے ہوئے نالہ ایک میں گر کر جاں بحق ہوگئے، ماجرہ کلاں اور سیدو والی کے8افراد جو کہ چناب کے سیلاب میں ڈوب گئے تھے ان میں چار کی لاشیں مل گئیں، عسکری کالونی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔سرحدی علاقہ بجوات میں ایک اور نوجوان 24 سالہ رضوان ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔دریائے چناب کا بند ٹوٹنے سے جہاں کئی دیہات زیر آب آئے وہیں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں بھی پانی داخل ہوگیا،جو تین فٹ تک پہنچ گیا،جس کے باعث ایئرپورٹ کو عارضی طورپر بند کردیا گیا،ترجمان پی آئی اے کے مطابق آج صبح 10 بجے سے لے کر رات 10 بجے تک پی آئی اے کی سیالکوٹ سے آپریٹ ہونے والی پروازیں لاہور ایئرپورٹ منتقل کر دی گئی ہیں، پی کے 746 جدہ تا سیالکوٹ ، پی کے 745 سیالکوٹ سے جدہ، پی کے 239 سیالکوٹ سے کویت اور پی کے 244 دمام سے سیالکوٹ کی پروازیں اب لاہور ایئرپورٹ سے آپریٹ ہوں گی۔ادھر ریلوے نے لاہور تا راولپنڈی مین لائن ون پر ٹرین آپریشن بدھ کو دن کے وقت سے مکمل طور پر بحال کر دیا،ایک روز قبل شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔منسوخ ہونے والی سبک خرام، اسلام آباد ایکسپریس،سیالکوٹ ایکسپریس کے مسافروں کو ریفنڈ دے دیا گیا جبکہ دیگر مسافروں کو دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ سیالکوٹ شہر میں پانی سے اکثریت گھروں میں محصور،وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔سمبڑیال اور گردونواح میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی، نالہ پلکھو سے ملحقہ بھڑتھ بھوتھ، کینٹ، ڈالووالی، سدھ، کمانوالہ سے متعدد خاندانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی پانی سے نکل کر خواتین اور مویشیوں سمیت قریبی بند پر پناہ لے لی۔چناب کے ہیڈ قادرآباد سے خارج ہونے والے 10لاکھ 70 ہزار کیوسک ریلے نے پنڈی بھٹیاں میں تباہی مچادی،سیکڑوں دیہات زیرآب، لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں،دو روز قبل مساجد میں ہوئے اعلانات کے بعد سیلابی علاقوں کے مکینوں نے اپنے مال مویشیوں اور قیمتی سامان کے ساتھ محفوظ مقامات اور اونچی جگہوں پر نقل مکانی تو کر لی لیکن انسانوں کیلئے خوراک اور جانوروں کیلئے چارہ کی شدید قلت ہے۔ تاہم حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح کم ہونا شرو ع ہوگئی۔دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ خانکی کے مقام پر پانی کا بہاو 8 لاکھ 59 ہزار کیوسک ہے۔دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا ریلا کل جمعہ کو مظفرگڑھ پہنچے گا۔ چناب میں طغیانی سے چنیوٹ میں اس وقت ساڑھے 3 لاکھ کیوسک کا آبی ریلا گزر رہا ہے جبکہ گنجائش ساڑھے 9 لاکھ ہے۔ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل کا کہنا ہے کہ چنیوٹ بند کو توڑنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، متعلقہ محکمے مل کر اس کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے، ہماری پہلی ترجیح آبادی اور چنیوٹ شہر کو بچانا ہیانتظامیہ و دیگر ادارے عام افراد کو دریائے راوی کے کناروں کی جانب جانے سے روک رہے ہیں۔ ۔شکرگڑھ میں کرتار پور، دودھے، جنگلی، ہیرا جھن، جرمیاں سنگھاں، قلعہ، کوٹھے، بھیکو چک سمیت درجنوں دیہات زیر آب ہیں ،محصور ہزاروں افراد میں سے 700کو ریسکیو کرلیا گیا۔نارووال شکرگڑھ روڈ پر ابھی تک تمام ٹریفک کیلئے بند ہے جہاں سیلاب نے دیہاتوں کو متاثر کیا تھا اب پانی نالہ جھجری سے نارووال شہر کے اندر داخل ہو گیا ہے شہر کے اندر عیدگاہ روڈ،محلہ گنج حسین آباد، کچے کھوٹھے،عباس نگر، رسول پورہ،این پی ایس، سبزی منڈی ،ظفروال روڈ،قبرستان ارد گرد 3 سے 4 فٹ پانی کھڑا ہے۔ساہیوال میں پانی میں پھنسے 10 افراد اور 8 جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیاگیا۔نارنگ منڈی میں بھی سیلا ب نے تباہی مچا دی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، متعدد دیہات زیر آب آ گئے، کجلہ، جاجوگل، میروال، برج ، لونگ والا ، پسیانوالہ، منڈیالی سمیت درجنوں ڈیرہ دیہات کا زمینی راستہ منقطع ہو چکا ہے، علاقہ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، حکومت کی جانب سے سیلابی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع نہ کی جا سکیں۔شرقپور کے مقام پر بھی پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، راوی کا پانی کناروں سے نکل کر جنگل سے گزرتا ہوا حفاظتی بند کے ساتھ لگ گیا، شرقپور کے حفاظتی بند کے ساتھ 1988 کے بعد اب پانی پہنچا ہے، عارف والا میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا، دلاور، نورا رتھ اور ٹبی لال بیگ سیکٹر کے ملحقہ کئی دیہات خالی کرا لیے گئے، ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کے انخلا کے اقدامات تیز کردئیے۔گوجرانوالہ ڈویڑن میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گیپکو کے 7 گرڈاسٹیشن، 54 فیڈرز سے بجلی کی ترسیل بند رہی جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم رہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاوٓ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ہے۔وہاڑی میں لکھا سلدیرا اور جتیرا کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے جس کے سبب سیلابی پانی لکھا سلدیرا اور موضع جتیرا میں داخل ہوگیا۔ مراد والا بند ٹوٹنے سے کالیہ شاہ، موضع دھول، موضع سائیفن، جھوک گامو، جھوک فاضل اور ویرسی واہن شدید متاثر ہوئے۔بہاولنگر میں پانی کے تیز بہاوٓ سے متعدد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے، دیپالپور میں اب تک 80 ہزار متاثرین اور 10 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج 29 اگست تا 2 ستمبر اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے، پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔لاہور، شمالی اضلاع میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوٓالدین شامل ہیں۔ وسطی و جنوبی پنجاب میں 29 تا 31 اگست کے دوران بارشیں اور نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال جبکہ خیبر پختونخوا میں 29 تا 31 اگست کے دوران شدید بارشیں، ملاکنڈ و ہزارہ ڈویڑن میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے بستیاں اجڑ گئیں