شانگلہ: چرواہے کی بہادری، آٹھ جانیں اور مویشی بچاتے ہوئے اپنا ہاتھ قربان کر دیا

شانگلہ: چرواہے کی بہادری، آٹھ جانیں اور مویشی بچاتے ہوئے اپنا ہاتھ قربان کر دیا

خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں تباہ کن سیلاب کے دوران ایک چرواہے نے اپنی جان داؤ پر لگا کر پڑوسی خاندان کے آٹھ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچا لیا۔

 57 سالہ چرواہے شیر ملک کی اس قربانی اور بہادری نے مقامی کمیونٹی کو حیران کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تحصیل پورن کے علاقے دراڈ میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلاب کے دوران شیر ملک اپنے گھر میں موجود تھے کہ اچانک انہوں نے قریبی پڑوسیوں کی چیخ و پکار سنی۔ اس وقت متاثرہ گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا، جبکہ بچے، خواتین اور مویشی پانی میں گھِر کر پھنس گئے تھے۔شیر ملک نے سب سے پہلے بچوں اور خواتین کو نکالا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ بعدازاں متاثرہ خاندان کی درخواست پر مویشیوں کو بھی بچانے کی کوشش کی۔ اسی دوران وہ ایک بکری کو نکال رہے تھے کہ اچانک چھت ان پر گر گئی، جس کے نتیجے میں ان کا بازو بری طرح زخمی ہوا اور خون بہتا رہا۔چرواہا تقریباً تین گھنٹے تک ملبے تلے دبے رہے لیکن حوصلہ نہیں ہارا اور بڑی جدوجہد کے بعد خود کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ مقامی لوگوں نے مسجد سے اعلان کرا کے مدد طلب کی اور بالآخر شیر ملک کو پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔ تاہم بدقسمتی سے وہ اپنا ہاتھ کھو بیٹھے، جو بعد میں ملبے کے نیچے سے برآمد ہوا۔

صحافیوں سے گفتگو میں شیر ملک نے کہا کہ انہوں نے یہ سب ایک مسلمان، ایک انسان اور ایک پڑوسی ہونے کے ناطے اپنا فرض سمجھ کر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ نہ پہنچتے تو ممکن تھا متاثرہ خاندان بھی ان درجنوں افراد کی طرح جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا جو اس علاقے میں سیلاب کی نذر ہوگئے۔مویشی پال کر گزر بسر کرنے والے شیر ملک کے مطابق مقامی کمیونٹی ان کے علاج اور کھانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ وہ حال ہی میں صحت یاب ہو کر پشاور سے واپس آئے ہیں اور لوگ ان کی خیریت دریافت کرنے کے ساتھ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مشکل وقت میں شیر ملک کو مالی امداد فراہم کی جائے۔