ویب ڈیسک: اسرائیل کی جانب سے غزہ میں وحشیانہ بمباری کا سلسلہ نہ رک سکا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 81 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
پناہ گزین کیمپ پر حملہ، امداد کے منتظر افراد نشانہ بنے
شمال مغربی غزہ میں واقع پناہ گزینوں کے کیمپ پر اسرائیلی افواج نے ایک بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شہدا میں وہ 31 فلسطینی بھی شامل ہیں جو امدادی سامان کے حصول کے لیے انتظار کر رہے تھے۔
بھوک سے 21 بچوں کی اموات
غزہ میں خوراک کی شدید قلت کے باعث حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مزید 21 بچے خوراک نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
اقوام متحدہ: “غزہ کی صورتحال ایک دل دہلا دینے والی فلم ہے”
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال کو "ایک دل دہلا دینے والی فلم" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق:“شہدا کی مجموعی تعداد 59 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، غزہ میں بھوک، بمباری اور موت کی جو تصویر بنی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل فلسطینیوں کو انسان نہیں سمجھتا۔”
قطر اور اسرائیلی شہریوں کا ردعمل
قطر نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:“اسرائیل قطاروں میں کھانے کے انتظار میں کھڑی پر امن فیملیز کو نشانہ بنا رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔”ادھر تل ابیب میں خود اسرائیلی شہریوں نے بھی احتجاج کیا۔ انہوں نے ایسے بینرز اٹھائے جن پر بھوک سے مرنے والے فلسطینی بچوں کی تصاویر تھیں۔ مظاہرین نے اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:“غزہ کے حالات کا ذمہ دار اسرائیل ہے، اور خوراک کی بندش کے باعث ہلاکتیں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔”
عالمی برادری کی خاموشی پر سوالات
فلسطینی حلقے اور انسانی حقوق کے ادارے ایک بار پھر عالمی برادری کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ غزہ میں نہ صرف بمباری سے تباہی پھیل رہی ہے بلکہ محاصرہ اور اشیائے خور و نوش کی بندش نے لاکھوں افراد کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔