نواب ٹاؤن قتل کیس کا راز فاش، گاڑی میں موجود خاتون ہی قاتل ثابت

نواب ٹاؤن قتل کیس کا راز فاش، گاڑی میں موجود خاتون ہی قاتل ثابت

نواب ٹاؤن کار سوار قتل کیس میں پولیس نے چند ہی دنوں میں معمہ ٹریس کرتے ہوئے مقتول کے ساتھ موجود خاتون کو ہی قاتل قرار دے دیا ہے۔

 پولیس کے مطابق ملزمہ ماہ نور نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اسی نے ندیم ارشاد کو اس کے اپنے پستول سے گولی مار کر قتل کیا۔ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ماہ نور اور مقتول ندیم ارشاد کے درمیان گزشتہ تقریباً چار سال سے تعلقات تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ماہ نور نے اپنے سابق شوہر سے علیحدگی کے بعد ندیم سے تعلق قائم کیا، بعد ازاں دونوں نے نکاح بھی کر لیا، لیکن ان کے درمیان گھریلو تنازعات اور جھگڑے معمول بن چکے تھے۔ دوسری طرف مقتول کے اہل خانہ اس کی منگنی ایک لیڈی ڈاکٹر سے کرانے کی کوشش کر رہے تھے، جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ دوبارہ اپنے سابق شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی اور وہ ندیم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مناسب موقع تلاش کر رہی تھی۔ واردات کے روز دونوں کار میں موجود تھے کہ تلخ کلامی کے دوران ماہ نور نے ندیم کا پستول نکالا اور قریب سے فائر کر دیا، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

بعد ازاں واقعے کو پراسرار رخ دینے کی کوشش کی گئی، تاہم فرانزک شواہد، موبائل ڈیٹا، بیانات اور ملزمہ کے متضاد مؤقف نے پولیس کو اصل ملزم تک پہنچا دیا۔ پاکستان میں اس نوعیت کے کئی کیسز میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر ساتھی یا قریبی تعلق رکھنے والا فرد خود کو متاثرہ ظاہر کرتا ہے مگر تفتیش میں کردار بدل جاتا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف قتلِ عمد کی دفعات کے تحت چالان مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ آلہ قتل بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ کیس میں مزید فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں مضبوط پراسیکیوشن پیش کی جا سکے۔