کوئٹہ میں ایک ماہ قبل بوری بند حالت میں ملنے والے کمسن بچے علی شاہ کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ (ایس سی آئی ڈبلیو) نے کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی سگی چچی کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش گرفتار خاتون نے بچے کے قتل کا اعتراف کیا ہے، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا مبینہ آلۂ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے محرکات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق کمسن علی شاہ 20 اگست کو مدرسے سے گھر واپس آنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ اہل خانہ نے بچے کی تلاش شروع کی، تاہم 23 اگست کی صبح اس کی لاش گھر کے قریب ایک بوری سے برآمد ہوئی۔ لاش بوری میں بند تھی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کردی گئیں۔ایس ایس پی ایس سی آئی ڈبلیو کیپٹن (ر) دوست محمد بگٹی کی براہِ راست نگرانی میں کیس کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن یونٹ، اینالیسس یونٹ اور دیگر متعلقہ افسران شامل تھے۔پولیس کے مطابق ایس ایس پی دوست محمد بگٹی اور ایس پی عبدالستار اچکزئی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیشی ٹیم سے کیس میں ہونے والی پیش رفت اور مختلف پہلوؤں پر بریفنگ لی۔
تفتیشی ٹیم نے دستیاب شواہد، تکنیکی معلومات، رابطوں اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ پولیس کا شک مقتول بچے کی سگی چچی کی جانب گیا، جسے حراست میں لے کر تفتیش کی گئی۔پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش خاتون نے علی شاہ کے قتل کا اعتراف کیا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش چند روز تک گھر میں موجود پانی کی ٹینکی میں چھپائی گئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ لاش سے بدبو آنے کے بعد اسے پانی کی ٹینکی سے نکالا گیا اور بوری میں بند کرکے گھر کے قریب پھینک دیا گیا۔ایس سی آئی ڈبلیو نے ملزمہ کو گرفتار کرنے کے ساتھ واردات میں استعمال ہونے والا مبینہ آلۂ قتل بھی برآمد کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق قتل کی وجوہات، واقعے میں کسی اور شخص کے ملوث ہونے اور دیگر اہم پہلوؤں کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔