آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت پر بھرپور کارروائیاں جاری‘ سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ، گاڑی اور دیگر تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا
افغان سرزمین پاکستان اور اس کے شہریوں پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہ سرزمین استعمال کر رہے ہیں :وزیردفاع
راولپنڈی‘شکیک(آئی این پی‘آن لائن )پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت پر بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو موثر طریقے سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے جبکہ افغان طالبان کی سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ، گاڑی اور دیگر تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز کا دفاعِ وطن کیلئے عزم غیرمتزلزل ہے، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا‘دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے افغان سرزمین پاکستان اور اس کے شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے،سب سے زیادہ تشویش کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر ہے،افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔شنگھائی تعاون کی وزرائے دفاع کانفرنس سے خطاب اورکانفرنس میں شریک مختلف وزرائے دفاع سے ملاقاتوں میں گفتگو کر رہے تھے۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی چین، قازقستان اور تاجکستان کے وزرائے دفاع اور ایران کے نائب وزیر دفاع سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں باہمی دلچسپی کے مختلف اموراور علاقائی امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔۔ خواجہ آصف نے کہا کہ امن اور استحکام کے لیے الزام تراشی، نفرت انگیز سیاست اور اندرونی سیاسی فائدے کے لیے بیانیہ سازی ترک کرنا ہوگی، امن اور استحکام کے لیے شفافیت، اعتماد سازی اور باہمی تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے