محمد تسنیم رضا
سپریم کورٹ کا حالیہ ریمارکس — "پولیس طاقتور طبقے کی خدمت کر رہی ہے، عوام کی نہیں" — محض ایک جملہ نہیں بلکہ ریاست کے رْخِ روشن پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ جملہ اْس درد کی گواہی ہے جو ہر اْس پاکستانی نے محسوس کیا ہے جسے کبھی تھانے کا دروازہ دیکھنا پڑا، کبھی ناکے پر رکنا پڑا، یا کبھی وردی میں ملبوس کسی شخص کے رویے سے گزرنا پڑا۔
کچھ روز پہلے میں اور میرے ایک دوست ڈاکٹر محسن رفیق صاحب، جو جی سی یونیورسٹی لاہور میں فزکس کے شعبے میں پروفیسر ہیں، ان کا گھر زیرِ تعمیر ہے اور اسی سلسلے میں خریداری کے لیے ہمیں بازار جانا پڑا۔ ہم بازار پہنچے ہی تھے کہ بارش ہونے لگی۔ بارش معمولی تھی لیکن پھر بھی سڑک کے کناروں پر پانی کھڑا ہو گیا۔ بارش کی وجہ سے سڑک پر رش بھی نہ رہا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر میں اور پروفیسر صاحب پانی سے بچنے کے لیے کنارے سے تھوڑا سا ہٹ کر سڑک پر چلنے لگے، لیکن ہم سڑک کے درمیان میں نہیں تھے — بس تھوڑا سا ہٹ کر پانی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پیچھے سے ایک موٹر سائیکل والے نے ہمیں کراس کیا اور چلتی موٹر سائیکل سے گردن موڑ کر ہمیں دور تک گالیاں دیتا، بغیر رکے چلا گیا۔ موصوف پولیس کی وردی میں ایک سپاہی تھے، اور ہمارا جرم یہ ٹھہرا تھا کہ ہماری وجہ سے ان کی موٹر سائیکل کا ٹائر تھوڑا سا زیادہ گیلا ہو گیا تھا۔
میں نے اور پروفیسر صاحب نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا اور پھر ہنسنے لگے۔ ہماری ہنسی میں شرمندگی بھی تھی اور بے بسی بھی۔ پروفیسر صاحب طنزیہ لہجے میں کہنے لگے: "سر! وردی عزت کے ساتھ ساتھ غیر مشروط اطاعت بھی مانگتی ہے۔" سپاہی کی اس وردی نے اس کے اندر عوام کی خدمت کی بجائے حاکمیت کا وہ احساس بھر دیا تھا، جس نے اسے یہ سوچنے کا شعور بھی چھین لیا تھا کہ جسے وہ صرف اپنے موٹر سائیکل کا ٹائر گیلا ہونے کے جرم میں سرِ عام بھرے بازار میں گالیاں دیتا ہوا جا رہا ہے، وہ اس معاشرے کا سب سے اہم کردار، سب سے اہم شخص اور سب سے بزرگ ہستی — ایک استاد ہے۔
اب دیکھتے ہیں پولیس کی پچھلی چالیس سالہ کارکردگی کی طرف۔ اس کارکردگی کا جائزہ ذاتی اور انفرادی ہے۔ کارکردگی کے جائزے کو پورے پنجاب پر نہ پرکھا جائے — خدانخواستہ یہ نہ ہو کہ نتیجہ انفرادی تجربات سے بھی برا نکلے۔ بہرحال چند ذاتی واقعات کا ذکر کرتا ہوں، باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔
میں نوے کی دہائی میں پٹرول پمپ کے بزنس سے وابستہ تھا۔ ایک رات ڈاکو آئے اور گن پوائنٹ پر پٹرول پمپ پر موجود کیش اور موٹر سائیکل لے کر چلے گئے۔ ملازمین کو مارا پیٹا بھی۔ ان دنوں حکومت کی طرف سے رات کو ایک سپاہی کی ڈیوٹی پٹرول پمپ پر لگائی جاتی تھی۔ جس دن ڈکیتی ہوئی اْس دن پولیس کا سپاہی موجود نہیں تھا — شاید کم نفری کی وجہ سے کسی اور جگہ ڈیوٹی ہوگی (گمان تو اچھا ہی رکھنا چاہیے)۔ بہرحال ڈکیتی کے بعد رپورٹ کرائی گئی اور پولیس نے اپنی کارروائی شروع کر دی۔ افسران تفتیش کے لیے آتے تو ہم انہیں کھانا کھلاتے، چائے پلاتے، ان کی گاڑی میں مفت تیل ڈالتے، اور وہ چلے جاتے۔ بہت دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ڈاکوؤں کا کوئی سراغ ملنا تھا نہ ملا۔ دو سال بعد اس ڈکیت گروہ میں پھوٹ پڑی اور ان میں کسی ایک نے پٹرول پمپ سے اٹھائے گئے موٹر سائیکل کے بارے میں مخبری کی اور بتایا کہ وہ فلاں مکینک کی دکان میں کھڑا ہے۔ چھاپہ مارا گیا تو صرف موٹر سائیکل کا ڈھانچہ ملا، باقی سب غائب تھا۔ اور یہ اْس ڈکیتی کی واحد چیز تھی جو برآمد ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ڈھانچہ ہمیں ڈکیتی میں ہوئے نقصان سے کئی گنا زیادہ قیمت میں پڑا۔
پھر سن 2000 میں ایک اور واقعہ پیش آیا، جب میرے گھر میں چوری ہوئی، جس میں کچھ زیورات اور نقدی چور لے گئے۔ جب رپورٹ کروانے کے لیے تھانے گیا تو پولیس والوں نے مجھے ایسی مشکوک نظروں سے دیکھا کہ مجھے خود پر شک ہونے لگا کہ کہیں اپنی چوری میں نے خود ہی تو نہیں کی۔ میں نے بڑی گہرائی میں، تقریباً مراقبے کی حالت میں، اپنے اندر جھانکا، اور جب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ چوری میں نے نہیں کی، تو تب میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ انہیں جائے وقوعہ پر لے کر آیا۔ انہوں نے بکھری ہوئی اشیاء کا جائزہ لیا اور تفتیش کا آغاز مجھ سے یہ سوال کرتے ہوئے کیا کہ: "آپ نے یہ زیورات اور نقدی گھر میں رکھی ہی کیوں ہوئی تھی؟" اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟
قصہ مختصر، انہوں نے ایف آئی آر کاٹنے میں تاخیری حربے شروع کر دیے۔ مجبور ہو کر ہمیں کوئی ستر، اسی اہلِ محلہ اور کچھ دوستوں کو ساتھ لے کر تھانے جانا پڑا۔ ان دوستوں میں ایڈیشنل آئی جی سید اعجاز شاہ صاحب کے بھائی ریاض شاہ صاحب مرحوم — (اللہ انہیں جنت میں بلند مقام عطا فرمائے) — بھی شامل تھے۔ اس کے بعد پرچہ ہو گیا، لیکن کسی تفتیشی نے جائے وقوعہ پر آ کر مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہ سمجھی۔ دس دن بعد میں خود گیا کہ معلوم تو کروں کہ سرکار کا موڈ کیا ہے، تو سرکار نے کچھ دیر بٹھانے کے بعد حکم دیا کہ انہیں نہانے کے لیے کچھ صابن اور لکھنے کے لیے کچھ کاغذ کے دستے لا کر دیے جائیں، جو ہم نے لا کر دیے بھی۔ اس کے بعد نہ سرکار سے ہم ملے اور نہ سرکار ہمیں۔ میری بیوی آج تک مجھے کوستی ہے کہ آپ نے پیروی نہیں کی۔
2015 میں ہمیں تیسری چوری کا سامنا کرنا پڑا۔ میں تھانے گیا تو وہاں کے ایک صاحب میرے واقف نکلے۔ انہوں نے رپورٹ درج کی اور کہا کہ: "سر! آپ کو تو سب پتا ہی ہے ہماری کارکردگی کا۔ اس کے باوجود بھی اگر آپ کسی پر شک کی وجہ سے اس کی طبیعت صاف کروانا چاہتے ہیں، تو ٹھیک ہے، ہم اسے پکڑ لاتے ہیں، کچھ ہمارا بھی بھلا ہو جائے گا۔" (بھلے سے قاری اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کر سکتا ہے)۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خود تفتیش کریں، اگر آپ کو چور مل جائے، مالِ مسروقہ بھی برآمد ہو جائے، تو ہمیں بتائیے گا، ہم ملزم کو لا کر بند کر دیں گے۔
سنوانا تو مجھ کو اس سے پہلے اپنا ایک اور بھی ذاتی قصہ ہے لیکن اس بات سے مجھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا، پہلے وہ سن لیجیے۔ شاہدرہ تھانہ لاہور میں میرے ایک دور کے رشتہ دار تعینات تھے۔ نام تھا ان کا سید انور شاہ (مرحوم)۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گجرات کسی شادی پر گئے تو لاہور میں موجود گھر کو تالا لگانا پڑا۔ جب شادی سے کچھ دنوں بعد واپس آئے تو پتا چلا کہ چور گھر کا تمام سامان ٹرک پر لاد کر لے گئے ہیں (یہاں پر ہمسایوں کی بے حسی دیکھیں، کسی نے غور بھی نہیں کیا کہ رات کو اس گھر سے سامان کیوں اٹھایا جا رہا ہے اور کون اٹھا رہا ہے)۔ مجھے اس واقعے کا پتا چلا تو میں نقصان ہونے پر افسوس کے اظہار کے لیے گیا اور پوچھا کہ کوئی رپورٹ یا کارروائی کی ہے؟ وہ ہنس کر کہنے لگے: "نہیں"، اور اس کے ساتھ ایک اور جملہ بھی ارشاد فرمایا: "ہم نے کون سا کبھی کسی کی چوری شدہ اشیاء یا مال تلاش کر کے دیا جو ہماری ملتی، لہٰذا رپورٹ ہی درج نہیں کروائی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی ہے۔" پولیس ملازم کے اس ایک جملے سے آپ پولیس کی مجموعی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ایک اور واقعے کا سامنا ہمیں دو ہزار اکیس میں کرنا پڑا۔ ہم نے خالص دودھ کے حصول کے لیے لاہور جیسے شہر میں ایک گائے رکھی ہوئی تھی، جس نے ہماری زندگی میں بڑی آسانیاں پیدا کی تھیں۔ خالص دودھ، برفی، کھیر، کسٹرڈ، رس گلے، گلاب جامن، مکھن — اور نہ جانے کیا کیا۔ میری بیگم کے ہاتھوں کی بنی وہ تمام لذت بھری نعمتیں جو دودھ سے بنانا ممکن تھیں، ہمیں دستیاب تھیں۔ لیکن کسی کم بخت کو یہ گوارا نہ ہوا، اور اس نے رات کے اندھیرے میں ہماری گائے، جو ہماری زندگی کی ساری نہ سہی، آدھی جمع پونجی ضرور تھی، کھول کر لے گیا۔ ایک ہمسائے کے سی سی ٹی وی کیمرے میں چرانے والے کا چہرہ بھی پایا گیا۔ بدقسمتی سے میں ان دنوں ٹائیفائیڈ کا شکار ہو کر بستر تک محدود تھا، لہٰذا ایک منہ بولے بھائی کو تھانے رپورٹ لکھوانے بھیجا۔ وہ رپورٹ لکھوا آیا، ویڈیو کا کلپ بھی دے آیا۔ اس کے بعد نہ کوئی تھانے سے آیا اور نہ سابق تجربے کو دیکھتے ہوئے میں تھانے گیا۔
پولیس رویے کے نتیجے میں ہونے والے ایک سانحے کا واقعہ اللہ جانے وہ کہاں تک درست ہے، پنجاب کے ایک شہر میں ہوا، جہاں ایک کانسٹیبل نے کسی شخص کو معمولی بات پر سڑک کے بیچ میں کان پکڑوا دیے۔ کہتے ہیں کہ اْس شخص کا بیٹا ضبط کا دامن کھو بیٹھا اور پولیس اہلکار کو گولی مار دی۔ یہ واقعہ کتنے سچ پر مبنی ہے، نہیں جانتا، لیکن اگر یہ سچ ہے تو یہ محض قتل نہیں، پولیس رویے کے خلاف نفرت کا بہت برا اظہار ہے۔
تھانے جانا اور وہاں جا کر مسائل کا سامنا کرنا تو الگ بات ہے۔ سڑک کے کناروں پر جو ناکے عوام کی حفاظت کے لیے لگائے جاتے ہیں اب وہ بھی قانون کے محافظوں کے لیے "چائے پانی" کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ سنا ہے کہ اب پولیس اہلکار عوام کی سہولت کے لیے جاز کیش پر بھی رشوت وصول کرنے لگے ہیں۔ اللہ جانتا ہے، مجھے اب تک ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا (یہ صرف سنی سنائی بات ہے اور اس کو یہیں تک محدود رکھا جائے، یہ کوئی الزام یا مصدقہ بات نہیں ہے)۔ اب شاید وہ دن بھی دور نہیں جب "رشوت ایپ" بن جائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ پولیس کا یہ رویہ کیوں ہے؟ رشوت، بدسلوکی، ظلم، تذلیل — کیا یہ وردی کا حصہ بن چکی ہیں؟ اور سوال یہ بھی ہے کہ حکومتیں پولیس کو بہتر کیوں نہیں بناتیں؟ اس کا سیدھا جواب ہے: انہیں ایسی پولیس کی ضرورت ہی نہیں جو قانون کی ہو، وہ پولیس چاہتے ہیں جو ان کی ہو۔ الیکشن میں دھاندلی ہو، مخالفین کو دبانا ہو، یا کسی تحریک کو کچلنا ہو — پولیس ہر جگہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ پولیس آرڈر، پولیس کی بھرتیاں، تبادلے، تفتیشی نظام — سب کچھ سیاسی دخل اندازی سے آلودہ ہو چکا ہے۔ اصلاحات کی باتیں تو ہوتی ہیں، مگر سب کاغذی ہوتی ہیں۔
اس تمام تر تنقید کے باوجود ہم یہ بھی جانتے ہیں پولیس کو خود بھی بہت مسائل کا سامنا ہے اور اس ادارے میں ایسے سپاہی، افسر اور اہلکار بھی ہیں جنہوں نے بم دھماکوں کے وقت جانیں دیں، دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، اغوا شدہ بچوں کو بازیاب کرایا، سیلاب میں گھروں سے لوگوں کو نکالا۔ ہمیں ان قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ کوئی ادارہ مکمل سفید یا سیاہ نہیں ہوتا۔
لیکن اب سپریم کورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ "پولیس عوام کی نہیں، طاقتوروں کی خادم بن چکی ہے"، تو اس آواز کو نظر انداز کرنا خود ریاست کے حق میں نہیں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ معاشرہ بدلے، انصاف بحال ہو تو اس سب کے لیے ہمیں پولیس کے محکمے کی اصلاح کرنا پڑے گی۔ اس کے لیے:
ہر تھانے میں عوامی شکایت کمیٹی بنائی جائے جس کی نگرانی عدالت کرے۔
ہر ناکے اور تھانے پر ویڈیو ریکارڈنگ لازم ہو جو عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنے۔
پولیس کی بھرتی و تبادلے مکمل میرٹ پر ہوں اور سیاسی مداخلت پر پابندی ہو۔
ہر شہری کو موبائل ایپ یا ہیلپ لائن کے ذریعے شکایت کا اختیار ہو اور اس کا ریکارڈ محفوظ ہو۔
حراستی اموات، جعلی مقابلے اور بدسلوکی پر فوری تادیبی کارروائی ہو۔
ابتدائی تربیت میں انسانی حقوق، اخلاقیات اور عوامی تعلقات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
پولیس کی تنخواہ، سہولتیں اور تحفظ بہتر بنایا جائے تاکہ وہ کرپشن سے بچ سکے۔
اس کے علاوہ پولیس کی ڈیوٹی کے اوقات کو کم کیا جائے، ان پر اتنا دباؤ نہ ڈالا جائے کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھیں۔
سپریم کورٹ کی گونجتی آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ اب صرف عدالتی ریمارکس کا معاملہ نہیں، یہ ریاستی وقار، عوامی اعتماد اور معاشرتی سلامتی کا سوال ہے۔ پولیس کو اگر واقعی عوام کی خادم بنانا ہے تو بات بیانات تک نہیں، بلکہ اس کے لیے سخت اصلاحات کا عملی نفاذ کرنا ہوگا۔