ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر کیوں؟

تحریر :شیخ محمد انور 
100ایکڑ ،1000ایکڑ،1000مربے رکھنے والے جاگیرداروں نے 12 ارب ٹیکس جمع کروایا، مڈل کلاس سزا وار!
605 ارب ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کا جرم کیا ہے؟ریاست کی آمدن یا مڈل کلاس کا استحصال؟تنخواہ دار طبقہ: قومی خزانے کا سب سے بڑا سہارا‘امیر بے فکر، متوسط طبقہ زیرِ بار‘ٹیکس نظام میں انصاف کب آئے گا؟پاکستان میں ٹیکس نظام ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں انصاف اور مساوات کے بنیادی اصول بری طرح متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف ملک کے بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے اور ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالکان موجود ہیں جنہوں نے اربوں روپے کے واجب الادا ٹیکس بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرائے، جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقہ ہے جو ہر ماہ اپنی آمدن سے باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ وسیع زرعی اراضی کے مالکان اور بڑے جاگیردار مجموعی طور پر چند ارب روپے کا بھی ٹیکس ادا نہیں کر پائے، جبکہ صرف تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے دوران 605 ارب روپے سے زائد ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا