پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام عائد کردیا گیا:وفاقی وزیر اطلاعات

پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام عائد کردیا گیا:وفاقی وزیر اطلاعات

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات، پولیس کو وسائل کی فراہمی اور صوبائی وسائل کے استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ان حدود سے آگے نکل چکی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کر رہی۔وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا قیادت کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مبینہ ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے دہشت گردوں کی جانب سے اسی نوعیت کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا، تاہم ان دعوؤں کی تائید میں پریس کانفرنس کے دوران کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن ضروری ہے تاکہ جرائم یا دہشت گردی کے واقعات میں ان کے استعمال کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت سے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق بھی سوالات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں طویل عرصے سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، تاہم ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہری بعض بنیادی طبی سہولیات کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کو جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم صوبائی حکومت نے یہ گاڑیاں لینے سے انکار کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔وفاقی وزیر نے بلوچستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والی سرگرمیوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی قیادت کے کردار کا تقابلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل پولیس کے بجائے سیاسی احتجاج اور دھرنوں پر خرچ کیے جارہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور کاؤنٹر ٹیررازم کے لیے این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز کے استعمال کی تفصیلات سامنے آنی چاہییں۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی و صوبائی اداروں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ پولیس، سی ٹی ڈی، صحت اور تعلیم سمیت صوبائی ذمہ داریوں پر توجہ دی جائے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عطاء اللہ تارڑ اس سے قبل خیبر پختونخوا میں پولیس کو جدید آلات، گاڑیوں اور دیگر وسائل کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی تعاون کی پیشکش کا ذکر کرچکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان پولیس کے اختیارات، وسائل اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔