امریکی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم، 42 سالہ عبدالسید پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے

امریکی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم، 42 سالہ عبدالسید پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے

مشی گن: امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید نے ری پبلکن حریف اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔

 اس کامیابی کے بعد وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے جا رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عبدالسید نے مشی گن کی اہم سینیٹ نشست پر کامیابی حاصل کی، جو سبکدوش ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ وہ جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز پر سینیٹ کا حصہ بنیں گے۔ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو کے انتخابی نتائج کے مطابق عبدالسید نے 53.34 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے ری پبلکن حریف مائیک راجرز 44.90 فیصد ووٹ لے سکے۔ اس طرح عبدالسید نے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔

عبدالسید کون ہیں؟

42 سالہ عبدالسید کا تعلق ریاست مشی گن کے شہر این آربر سے ہے۔ وہ سابق عوامی صحت کے عہدیدار ہیں اور وین کاؤنٹی اور ڈیٹرائٹ میں صحت کے شعبے کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق مصری تارکینِ وطن کے خاندان سے ہے۔وہ سبکدوش ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لیں گے، جنہوں نے دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عبدالسید کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلم برادری کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ انتخابی مہم کا اہم موضوع رہا

عبدالسید کی انتخابی مہم میں اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ وہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کے ناقد رہے ہیں اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ان کا مؤقف تھا کہ بیرونِ ملک فوجی اخراجات پر خرچ ہونے والے وسائل کو امریکا کے اندر صحت، تعلیم اور عوامی ضروریات پر صرف کیا جانا چاہیے۔انتخابی مہم کے دوران ان کے مؤقف پر شدید تنقید بھی کی گئی اور مخالف اشتہارات میں انہیں شدت پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ عبدالسید نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہود دشمنی اور ہر قسم کے سیاسی تشدد کی مذمت کی۔

برنی سینڈرز اور دیگر اہم شخصیات کی حمایت

عبدالسید کی انتخابی مہم کو سینیٹر برنی سینڈرز، رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور یونائیٹڈ آٹو ورکرز سمیت متعدد اہم شخصیات اور تنظیموں کی حمایت حاصل رہی۔ان کی انتخابی مہم کے بنیادی نکات میں سیاست میں بڑی کارپوریٹ رقوم کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا، عام شہریوں کے اخراجات کم کرنا اور تمام شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی شامل تھے۔انہوں نے مہنگائی، پٹرول اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کو بھی اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا۔

مائیک راجرز کا سیاسی پس منظر

عبدالسید کے حریف مائیک راجرز سابق ایف بی آئی اہلکار اور قدامت پسند ری پبلکن سیاست دان ہیں۔ وہ 2001 سے 2015 تک امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے اور ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے انتخابی مقابلہ انتہائی مہنگا اور سخت رہا۔ اوپن سیکرٹس کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ریاست سے باہر کے سیاسی گروپوں نے انتخابی مہم میں 300 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، جبکہ دونوں امیدواروں نے مجموعی طور پر 100 ملین ڈالر سے زائد کے فنڈز جمع کیے۔

امریکی سیاست میں تاریخی کامیابی

عبدالسید کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔کامیابی کے بعد عبدالسید نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشی گن کے عوام نے ان پر اعتماد کیا ہے اور وہ ریاست کے عوام کی خدمت کے منتظر ہیں۔