ملاقات میں عاصم منیر بھی موجود ،توانائی، تجارت اور نئے منصوبوں پر غور ، علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال

سعودی ولی عہد  اہم ملاقات،تعاون بڑھانے پر اتفاق  شہباز شریف
 محمد بن سلمان کا پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط بنانیکا عزم،سرمایہ کاری اور معاشی تعاون پر بات چیت ،سعودی عرب 1ارب ڈالر تیل کی سہولت، بجٹ سپورٹ کی مد میں 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کریگا، 2ارب ڈالر دسمبر اور 3 ارب ڈالر جون 2026 میں واجب الاداہیں،حکام وزارت خزانہ
ریاض،اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، ملاقات میں دونوں رہنمائوں کے درمیان توانائی، تجارت اور نئے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر مملکت، کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ملاقات میں علاقائی و بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں شرکت کیلئے ریاض پہنچے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچنے پر ریاض کے نائب گورنر شہزاہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے وزیر اعظم اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب وفد میں شامل ہیں۔ شہباز شریف ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ وزیر اعظم عالمی رہنمائوں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔دوسری طرف سعودی عرب رواں مالی سال 2025-26 میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرے گا جبکہ 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق سعودی عرب رواں مالی سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی دے گا جو 290 ارب روپے کے مساوی ہوگی۔حکام نے کہا سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا، دو ارب ڈالر دسمبر جبکہ 3 ارب ڈالر قرض جون 2026 میں واجب الادا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں 85 ارب روپے سے زائد کی آئل فیسیلٹی دی گئی، سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ سہولت 30 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔اسی طرح سعودی عرب ماہانہ بنیاد پر 10 کروڑ ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کر رہا ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ سہولت 28 ارب 37 کروڑ روپے ماہانہ ہے۔وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا سعودی عرب نے پاکستان کو بجٹ سپورٹ کی مد میں 5 ارب ڈالر ٹائم ڈیپازٹس 4 فیصد شرح سود پر دے رکھے ہیں، سعودی عرب ان فنڈز کی ادائیگی ہر سال رول اوور کرتا ہے۔خیال رہے قرض کی مد میں سعودی ڈیپازٹس 1450 ارب روپے کے مساوی ہیں۔