شرح سود کم کی تو مہنگائی مزید بڑھ جائیگی، مفتاح اسماعیل

ہمارا بجٹ خسارہ بہت بڑا ، اخراجات کم کرکے حکومت کنٹرول نہیں کرپارہی
 سرمایہ کاری وزیراعظم کے بیرونی دوروں سے نہیں آتی، دنیا مہر بخاری کیساتھ 
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مارکیٹ بہت زیادہ توقعات ظاہر کررہی تھی کہ آج شرح سود میں کمی لائی جائے گی،سٹیٹ بینک کا کافی عرصہ سے یہ موقف نظر آرہا تھا کہ شرح سود کم کی تو روپے کی قدر گر جائے گی،اس پرمہنگائی مزید بڑھ جائے گی،دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئیمفتاح اسماعیل نے کہا کہ سٹیٹ بینک شرح سود میں کمی لانے سے گریز کررہی ہے،شاید یہ انتظار کیا جارہا ہے کہ ایک مرتبہ حکومت کچھ ریفارمز کرے اور اپناخسارہ کم کرے،تو پھر وہ شرح سود میں کمی لاسکیں گے، شرح سود کو برقرار اس لئے رکھا گیا کیونکہ ان کو ڈر،خوف تھا کہ جیسے ہی شرح سود کو نیچے کریں گے توایک پریشر آجائیگا اور روپیہ کی قیمت گرجائے گی،کیونکہ ہمارا اقتصادی بجٹ خسارہ بہت بڑا ہے، اخراجات کم کرکے اس کو حکومت کنٹرول نہیں کر پارہی، اس کی وجہ سیاس کو سروس کرنے کیلئے شرح سود کو برقرار رکھنا پڑا۔ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سرمایہ کاری وزیراعظم کے بیرونی دوروں سے نہیں آتی،سرمایہ کاری گراؤنڈ رئیلٹی پر آتی ہے، پاکستان میں کمپنیوں پراکسٹھ فیصد ٹیکس لگا ہے۔جس ملک میں نوکری پیشہ لوگوں پر 38.15فیصد ٹیکس عائد ہو،بزنس کرنیوالے پر 49.5فیصد ٹیکس ہو،جس ملک میں بجلی تمام ہم پلہ اور علاقائی ممالک سے مہنگی ہو،جس میں گیس تمام ہم پلہ اور علاقائی ممالک سے مہنگی ہو اور شرح سودبھی 11 فیصد ہو، لوگ بھی نہیں آرہے، اس ملک کے اندر سرمایہ کاری نہیں آئے گی، چاہے وزیر اعظم جتنے ممالک کا دورہ بھی کرلیں،گیس،بجلی سستی کرنی ہوگی، شرح سودمیں کمی لانا ہوگی۔