نیا بلدیاتی ایکٹ، ضلع کونسلز اور یو سی وارڈ سسٹم ختم

شہری علاقوں میں ٹائون کارپوریشنز، دیہی علاقوں میں تحصیل کونسلز قائم ہونگی 
 یونین کونسل کا ہائوس 13 ارکان پر مشتمل ہوگا،9 کونسلرز براہِ راست منتخب ہوں گے
لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے نیا بلدیاتی ایکٹ 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس ایکٹ کے تحت آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ایکٹ 2025 میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز، ضلع کونسلز اور یو سی وارڈ سسٹم کو ختم کر دیا گیا ہے۔ شہری (اربن) علاقوں میں ٹائون کارپوریشنز جبکہ دیہی علاقوں میں تحصیل کونسلزاور یونین کونسلز قائم کی جائیں گی۔ 13 بڑے شہروں میں ٹائون کارپوریشنز جبکہ دیگر اضلاع میں تحصیل کونسلز بنائی جائیں گی۔ نیم شہری (سیمی اربن) علاقوں کے شہری حصے میں ٹائون کارپوریشن اور دیہی حصے میں تحصیل کونسل قائم ہوگی۔لاہور میں دس تحصیلوں پر مشتمل ٹائون کارپوریشنز ہوں گی۔ ہر ٹائون کارپوریشن کا ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔پرانے ایکٹ کے تحت یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے تھے، تاہم نئے ایکٹ کے مطابق یہ انتخاب *منتخب کونسلرز کریں گے۔نئے ایکٹ کے تحت یونین کونسل کا ہائوس 13 ارکان پر مشتمل ہوگا۔ ان میں 9 کونسلرز براہِ راست منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین، نوجوان، مزدور اور اقلیتی کونسلرز کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔بلدیاتی نمائندوں کو کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے ایک ماہ کی مدت دی گئی ہے۔ پرانے بلدیاتی نظام میں ضلعی اسمبلی موجود تھی، جسے نئے ایکٹ میں ختم کر دیا گیا ہے۔یونین کونسل کی آبادی 22 ہزار سے 27 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔ پرانے ایکٹ میں یونین کونسل کی آبادی کا کوئی واضح تناسب مقرر نہیں تھا۔پرانے ایکٹ کے تحت لاہور میں ایک میئر اور نو ڈپٹی میئر تھے، جبکہ نئے ایکٹ کے مطابق لاہور میں دس میئر اور بیس ڈپٹی میئر ہوں گے، جو سیکرٹری بلدیات کو جواب دہ ہوں گے۔ ڈپٹی میئر ٹائون اسمبلی کا اسپیکر بھی کہلائے گا۔لاہور کی فیصلہ سازی کے لیے ضلعی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ضلع لاہور کی اس کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور اور ایک سینئر سیاسی نمائندہ چیئرمین کی حیثیت سے فیصلے کرنے کے مجاز ہوں گے۔