سابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میچ ریفری کرس براڈ نے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت کھیلوں کے معیار اور فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کھیل کے دوران بعض مواقع پر ان پر سیاسی اور مالی اثرات ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس سے کھیل میں غیر منصفانہ رویہ اور اثر انداز ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔براڈ کے مطابق، ایک اہم میچ میں بھارتی ٹیم پر سلو اوور ریٹ کا جرمانہ عائد ہونے والا تھا، مگر انہیں بھارتی اثر و رسوخ کے سبب ہلکی پھلکی کارروائی کرنے کا کہا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس میچ میں انہیں فون کال کے ذریعے ہدایت دی گئی کہ وہ ہاتھ ہلکا رکھیں اور کوئی حل نکالیں، کیونکہ یہ بھارت ہے اور اس کا اثر رسوخ بہت زیادہ ہے۔ براڈ کے مطابق، انہوں نے اس ہدایت کے مطابق ٹائم کیلکولیشن میں ایڈجسٹمنٹ کی، تاکہ بھارت کو سزا سے بچایا جا سکے۔
مزید برآں، براڈ نے بتایا کہ بھارتی ٹیم کے کپتان ساروو گنگولی نے آفیشلز کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور اگلے میچ میں بھی اسی طرح کا رویہ اپنایا۔ جب انہوں نے اس بارے میں سوال کیا تو حکام نے انہیں کہا کہ وہ صرف گنگولی کو سزا دیں۔ براڈ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھیل میں سیاسی دخل اندازی بہت بڑھ چکی ہے اور اب یہ ایک عام بات بن چکی ہے کہ لوگ سیاسی اور مالی مفادات کے پیش نظر فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھارتی پیسہ اور اثر و رسوخ آئی سی سی پر غالب آ چکا ہے، جس کی وجہ سے کھیل میں انصاف کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔
کرس براڈ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اب آئی سی سی میچ آفیشلز کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ادارہ اب سیاسی پوزیشن میں چلا گیا ہے، جہاں فیصلے سیاسی اور مالی مفادات کے تحت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ کھیل کے اصول اور انصاف سیاسی دباؤ کے سبب متاثر ہو رہے ہیں اور یہ سب کچھ کھیل کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔