بلاول بھٹوکی مولانا فضل الرحمن سے اہم ملاقات‘ کشمیر میں حکومت سازی کیلئے مشاورت‘افغانستان سے متعلق سربراہ جے یوآئی کی تجاویز اور خدشات صدر تک پہنچانے کی یقین دہانی

وزیراعظم آزاد کشمیر  کیخلاف مشترکہ  تحریک عدم اعتماد آصف زرداری سے لیگی وفد کی ملاقات میں فیصلہ
ن لیگ عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی،  حکومت کا حصہ نہیں بنے گی‘ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مسائل کا حل کرنے میں ناکام رہی ہے، اتفاق رائے ہے  آزاد کشمیر میں بہتر حکومت دینی ہے:رانا ثناء اللہ
معاملات شدت کی طرف جارہے ہیں افغانستان سے کشیدگی پر رویئے میں نرمی لانا ہوگی، اگر ہم بھارت کے بعد افغانستان سے بھی لڑنا چاہتے ہیں تو سفارتی گہرائی کہاں چلی گئی؟ مولانا فضل الرحمن

ٓاسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کرلیا۔مسلم لیگ (ن) کے وفد نے ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں سیاسی و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور نئی حکومت سازی کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں وزیراعظم کے ناموں پر غور کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر میں حکومت کا حصہ بننے کی باضابطہ دعوت دیدی۔ملاقات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال، امیر مقام، پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف،  قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی۔قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کیخلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) بھی ہمارے ساتھ ہوگی جبکہ ن لیگ آزاد کشمیر حکومت سازی کا حصہ نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کی حکومت میں شامل نہ ہونے والی بات کو تسلیم کرلیا ہے جبکہ انہوں نے ہمارے ساتھ عدم اعتماد سے متعلق فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی، مسلم لیگ ن آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مسائل کا حل کرنے میں ناکام رہی ہے، اتفاق رائے ہے کہ ازاد کشمیر میں بہتر حکومت دینی ہے۔دریں اثنائچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سربراہ جے یو آئی کے گھر پہنچے اور ملاقات کی، فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اپوزیشن لیڈر بننے میں کوئی دلچسپی نہیں، ہم انہی ارکان کے ساتھ اپوزیشن میں رہیں گے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں پارلیمانی معاملات پر بھی مشاورت کی گئی، دونوں نے نئی قانون سازی اور پارلیمانی تعاون پر غور کیا، آئندہ قانون سازی میں اپوزیشن جماعتوں کے کردار پر تفصیلی بات چیت ہوئی، ملاقات میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے تعلقات پر بھی تبادلہ خیال ہواملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے افغانستان کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دیا۔بلاول نے فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی کہ افغانستان سے متعلق تجاویز صدر مملکت تک پہنچائی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق مولانا نے کہا  اگرچہ پالیسی اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کی مشکلات میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے، پاک افغان کشیدگی دونوں ممالک کے لیے مفید نہیں، رویے شدت کی طرف جارہے ہیں، دونوں اطراف سے رویے میں نرمی اور لچک لانا ہوگی، بیانیہ بنانا اور پھر اس کی تشہیر کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر ہم افغانستان سے بھی لڑنا چاہتے ہیں اور بھارت سے لڑنا چاہتے ہیں تو سفارتی گہرائی کہاں چلی گئی؟ بتائیں اسے پہلے افغانستان کے حوالے سے جو کچھ ہوا، وہ عالمی اتحاد کا تقاضا تھا؟ ا?پ نے افغانستان  کے خلاف اتحاد میں شامل ہو کر جو کچھ کیا کیا وہ صحیح تھا؟