لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اسکول بسوں کے فیصلے پر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد اگر اسکولز عدالتی احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں کی گزشتہ سماعت پر دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں مختلف اداروں کو ذمہ داری سونپی گئی۔ حکم نامہ میں محکمۂ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑی گاڑیوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرے اور اس کے ڈیٹا کے لیے ایک پالیسی وضع کرے تاکہ ان گاڑیوں کی معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ، عدالت نے پی ایچ اے لاہور کو حکم دیا ہے کہ وہ کونو کارپس پودے کی شجرکاری بند کر دے اور اس کے درختوں کو اُکھاڑ کر دوبارہ مناسب جگہوں پر ان کی دیکھ بھال کرے۔محکمۂ تحفظ ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ اسٹون کرشنگ کی مشینری پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے، جس کا مقصد ماحول کی آلودگی کو کم کرنا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے بھی مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اسموگ کے مسائل پر قابو پایا جا سکے اور شہریوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔