ٹک ٹاک نے بیوٹی فلٹرز کے استعمال پر عمر کی پابندی لگانے کا فیصلہ

ٹک ٹاک نے بیوٹی فلٹرز کے استعمال پر عمر کی پابندی لگانے کا فیصلہ

ٹک ٹاک نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے بیوٹی فلٹرز کے استعمال پر عمر کی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 کمپنی کے مطابق، آنے والے ہفتوں میں 18 سال سے کم عمر کے صارفین کو وہ فلٹرز استعمال کرنے سے روکا جائے گا جو ان کی شخصیت کو بدلنے والے ایفیکٹس فراہم کرتے ہیں۔

تفریحی فلٹرز پر پابندی نہیں
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف وہ فلٹرز پر لاگو ہوگی جو شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں لاتے ہیں، جیسے چہرے کی شکل یا رنگت میں تبدیلی، تاہم تفریحی مقاصد کے لیے تیار کردہ فلٹرز پر یہ پابندی نہیں ہوگی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو ذہنی صحت کے مسائل سے بچانا ہے۔

ذہنی صحت پر اثرات
اس تبدیلی کا اعلان یورپین سیفٹی فورم میں کیا گیا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پابندی دنیا بھر میں نافذ ہوگی یا صرف یورپ تک محدود رہے گی۔ ٹک ٹاک کی جانب سے یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم انٹرنیٹ میٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بیوٹی فلٹرز کے استعمال سے بچوں پر آن لائن مخصوص انداز میں نظر آنے کا دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ذہنی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مشین لرننگ ٹیکنالوجی کی جانچ
ٹک ٹاک نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ مشین لرننگ ٹیکنالوجیز کی جانچ کر رہا ہے جو 13 سال سے کم عمر کے بچوں کے اکاؤنٹس کو شناخت کرنے میں مدد فراہم کرسکیں۔ یہ اقدام بچوں کی حفاظت کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے مزید محفوظ آن لائن تجربے کو یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ
یہ تبدیلی ٹک ٹاک کی جانب سے نوجوانوں کی ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ صارفین پر فزیکل اور ذہنی دباؤ کم ہوگا اور وہ سوشل میڈیا پر خود کو بہتر یا مختلف انداز میں پیش کرنے کی بجائے اپنی حقیقت کے مطابق پراعتماد رہ سکیں گے۔