دھرنا جاری رہے گا مجھے‘بشری بی بی‘عمر ایوب کومارنے کی کوشش کی گئی(علی امین گنڈا پورا)

میں نے اور عمران خان نے بارہا کہا  ہم ڈی چوک جائیں گے اور پرامن طریقے سے واپس آئیں گے مگر انتظامیہ نہ مانی‘ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا
 ظاہر ہے ہمارے پاس یہی چوائس ہے  جلسے کی اجازت نہ ملے تو جاکر مظاہرہ کرکے اپنا  بیانیہ دیں: مانسہر ہ  میں پریس کانفرنس ‘شہداء کے اہلخْانہ کیلئے ایک ایک کروڑ امداد کا اعلان

مانسہرہ(آئی این پی ) وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے بحیثیت وزیر اعلیٰ مجھے ،بشری بی بی اور اپوزیشن لیڈر کو مارنے اور اغو کرنے کی کوشش کی گئی‘ اس کی ایف آئی آر درج کراؤنگا۔  اسلام آباد میں احتجاج کے دوران ہماری پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کیا گیا جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال  ہیں ملتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم جب تھی احتجاج کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اجازت نہیں ملتی ہے ہمیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملتا ہے‘ اب ہمارے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے‘ یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گاجب تک خان رہا نہیں ہوتا۔ دھرنے کی کال بانی پی ٹی آئی  عمران خان نے دی ،  دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میں کال آف نہیں کروں گا،میں نے اور عمران خان نے بارہا کہا کہ ہم ڈی چوک جائیں گے اور پرامن طریقے سے واپس آئیں گے مگر انتظامیہ نہیں مانی۔مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ  ہم نے اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پرامن کال دی، ہم اپنے جائز حقوق کی بات کررہے ہیں، ہماری پارٹی کے ساتھ جبر کیا گیا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی نے ڈی چوک جانے کی اجازت دی۔انہوں نے کہا ہیکہ عمران خان نے کہا ہیکہ جب وہ کہیں گے تب دھرنا ختم ہوگا، تو یہ بات یاد رکھیں یہ دھرنا ابھی جاری ہے، یہ دھرنا عمران خان کے اختیار میں ہے، ہمارے دھرنے میں لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، ہمارے سیکڑوں لوگ شہید ہوئے، سیکڑوں کو گولیاں لگی ہیں، ہمارے ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے ہیں۔وزیراعلی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری ہے، عمران خان کی کال تک دھرنا جاری رہیگا، ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، ہم نے اسلام آباد احتجاج کے لیے پ امن مارچ کی کال دی، پرامن دھرنے پر گولیاں چلائی گئیں، ہم پر تشدد نہ ہوتا تو ہمارے لوگ بھی جواب نہ دیتے۔علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا ڈھائی سال سے ہماری جماعت کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا،