تحریک انصاف ٹاپ لیڈر شپ کا گھیرا تنگ
26 نومبر احتجاج کے 3 مختلف مقدمات میں کوئی ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا، انتظار کے بعد عدالت کا سخت اظہار برہمی، آخری وارننگ بھی دیدی ،150رہنمائوں ، کارکنوں کے وارنٹ جاری کردئیے ،علیمہ عظمی ٰ کی ضمانتوں میں توسیع
راولپنڈی ،لاہور، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) تحریک انصاف کی ٹاپ لیڈر شپ کا گھیرا تنگ ،انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے پرتشدد احتجاج کے 3 مختلف مقدمات میں مسلسل عدم حاضری پر 150 سے زائد ملزموں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ،گزشتہ روز سماعت کے موقع پر بھی طلبی کے باوجود تاحال کوئی ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ملزموں کے انتظار کے بعد عدم حاضری پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے تھانہ صادق آباد کے مقدمہ کی سماعت 28 جولائی، تھانہ واہ کینٹ کے مقدمے کی سماعت 30 جولائی اور تھانہ نصیر آباد کے مقدمہ کی سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی۔التوا سے قبل پراسیکیوٹر نے عدم پیشی پر عدالت کی توجہ دلاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ طلبی کے نوٹس اور آگاہی کے باوجود ملزم پیش نہیں ہوئے ،پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے ملزموں کی عدم پیشی پر ملزموں کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی استدعا کر دی، پراسیکیوٹر کا موقف تھا کہ ملزم جان بوجھ کر پیش نہ ہو کر مقدمات کی سماعت پر اثر انداز ہورہے ہیں جس پر عدالت نے 150 سے زائد ملزموں کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرکے آخری وارننگ جاری کی۔ سابق صدر عارف علوی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، اسد قیصر، سابق چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی، ہمشیرہ علیمہ خانم، اعظم سواتی، فیصل امین، وہاب علوی، حماد اظہر، شاہد خٹک، خالد خورشید اور شہر یار ریاض سمیت دیگر ملزم شامل ہیں جبکہ ان مقدمات میں تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ نمبر 3393، تھانہ واہ کینٹ کا مقدمہ نمبر 839 اور تھانہ نصیر آباد کا مقدمہ 1862 شامل ہیں ،عدالت نے ان مقدمات میں تحریک انصاف کے 22 رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں، عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف دائر درخواست پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ وکالت نامے پر سابق چیئرمین کے دستخط کروا کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔اس حوالے سے تحریک انصاف کے وکیل نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ سے سابق چیئرمین کی اپیل خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا ہے لیکن عدالتی احکامات کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ نے وکالت نامے پر سابق چیئرمین کے دستخط نہیں کروائے جو انصاف کے منافی ہے کیونکہ دستخط نہ ہونے کی وجہ سے تاحال اپیل دائر نہیں ہو سکی، جس پر عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ وکالت نامے پر دستخط کروا کے رپورٹ آج ہفتہ کو عدالت میں پیش کریں۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی نو مئی جلائو گھیرائو کے مقدمات میں عبوری درخواست کی ضمانتوں پر 19 ستمبر تک توسیع کردی اور آئندہ سماعت پراسیکیوشن سے ریکارڈ اور وکلا کو دلائل کیلئے طلب کرلیا۔اے ٹی سی کے جج ارشد جاوید نے عبوری درخواست کی ضمانتوں پر سماعت کی۔ادھر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور فواد چودھری کے وکیل نے بھی ایک روزہ حاضری معافی کی استدعا کی جس کو عدالت نے منظور کرلیا، عدالت نے چاروں ملزموں کی حاضری معافی منظور کرکیسماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔ادھر لاہور کی مقامی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی رہائش گاہ کے باہر اسلام آباد پولیس پر مبینہ حملے کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹ سہیل رفیق نے گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،فیصلے میں لکھا کہ عدالت ملزم شبلی فراز کے پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے ، عدالت نے شبلی فراز کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی۔انسداددہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے4 اکتوبر احتجاج پر درج 3 مقدمات میں مسلسل غیر حاضر پرپی ٹی آئی کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ، عدالت نے پیش ہونے والے ملزموں کی حاضری لگائی اور کچھ ملزموں کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کیے ، عدالت نے تھانہ کھنہ کے مقدمہ کی سماعت 11 ستمبر تک جبکہ احتجاج کے دیگر2 مقدمات کی سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی۔