بل وصولی کیلئے نیا پراجیکٹ لانے کا فیصلہ،ابتدائی طور پر ایک سب ڈویڑن میں بلنگ اور ریکوری آ ئوٹ سورس کی جائیگی
لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور میں واسا کو پانی کے بلوں کی عدم ادائیگی کا شدید مسئلہ درپیش ہے۔ہزاروں صارفین بل ادا نہ کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں،اور واسا کے ذمے واجبات کی مجموعی مالیت3ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔واسا نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے نیا پائلٹ پراجیکٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پراجیکٹ کے تحت ایک سب ڈویڑن میں بلنگ اور ریکوری کا مکمل عمل نجی کمپنی کو آ ئوٹ سورس کر دیا جائے گا۔ کمپنی بلوں کی تقسیم، کلیکشن اور ریکارڈ مینجمنٹ کی ذمہ دار ہوگی۔کمپنی واسا کو ہر ماہ فکس رقم ادا کرے گی، جب کہ وہ ریکوری سے اپنی لاگت اور منافع پورا کرے گی۔ابتدائی طور پر ایسے علاقے منتخب کئے گئے ہیں جہاں ڈیفالٹرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔واسا نے ورکنگ پیپر کی تیاری شروع کر دی تاکہ منصوبے کو منظوری کیلئے پیش کیا جا سکے۔پائلٹ سب ڈویڑن میں واسا کا ریونیو سٹاف بلنگ سے الگ کر کے دیگر علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ کمپنی تمام مالیاتی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔واسا حکام کے مطابق شہریوں کی عدم ادائیگی کے باعث ادارے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔پانی کی فراہمی، نکاسی اور مرمت جیسے کاموں میں یہ مالی دبا ئو براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر پائلٹ پراجیکٹ کامیاب ہوا تواس ماڈل کو دیگر سب ڈویڑنز میں بھی وسعت دی جائے گی۔یہ ریونیو سسٹم میں نجی شعبے کی شمولیت کا پہلا بڑا تجربہ ہو گا۔