غزہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں 17 ماہ سے جاری وحشیانہ حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیل نہ صرف جنگ بندی کی پیش کش کو رد کر رہا ہے بلکہ فلسطینی شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امدادی سامان کی تقسیم تو امریکہ کی نگرانی میں کی جا رہی ہے، تاہم وہاں شدید بدنظمی اور افراتفری پائی جاتی ہے، جس سے عام فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے بھوک اور پیاس سے نڈھال فلسطینیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔فلسطینی شہداء کی تعداد اب 54 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ حماس نے امریکی ثالثی کی پیش کش کردہ جنگ بندی تجاویز کو قبول کیا ہے، مگر اسرائیل نے ایک بار پھر انہیں مسترد کر دیا۔
اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ صرف انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے بلکہ یہ اقدام عالمی برادری میں اس کے خلاف شدید ردعمل اور تنہائی کا باعث بن رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر جارحیت بند کرے اور جنگ بندی کو قبول کرے تاکہ غزہ میں بسنے والے لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔