ایرانی حملے میں 500 سے زائد امریکی فوجی نشانہ بنے، مرکزی آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء

ایرانی حملے میں 500 سے زائد امریکی فوجی نشانہ بنے، مرکزی آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء

ایرانی فوج کی مرکزی آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔

آپریشنز کمانڈ کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق شدید حملوں کے بعد امریکی افواج اپنے علاقائی اڈوں سے فرار ہو کر دو خفیہ مقامات پر منتقل ہو گئیں۔ ان کے مطابق ایک مقام دبئی میں تھا جہاں 400 سے زائد امریکی اہلکار موجود تھے، جبکہ دوسرے مقام پر 100 سے زیادہ فوجی موجود تھے۔ایران کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات کو اسلامی پاسداران انقلاب فورس کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے درست نشانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ترجمان کے مطابق حملوں کے بعد کئی گھنٹوں تک ایمبولینسیں زخمی امریکی فوجیوں، بشمول کمانڈرز، کو منتقل کرتی رہیں۔خاتم الانبیاء کمانڈ نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطہ امریکی فوجیوں کے لیے “قبرستان” بن سکتا ہے اور ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب اسلامی پاسداران انقلاب نے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا کہ خلیج فارس میں 6 امریکی ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ایران کے مطابق یہ کارروائیاں 28 فروری سے جاری جنگ کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں، جس میں امریکا اور اسرائیل پر ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اس کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور اسرائیلی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔