جی ایس پی پلس سٹیٹس معیشت کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے:ایس ایم تنویر‘حکومت جی ایس پی پلس سٹیٹس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنائے:کامران ارشد
پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس سٹیٹس بہت اہمیت رکھتا ہے، یورپی ممالک کو برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر ہوگئیں: ثاقب فیاض ‘سینئر نائب صدرایف پی سی سی آئی
لاہور‘کراچی(کامرس رپورٹر‘ایجنسیاں)ملک کی کاروباری برادری نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے ایسے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں جو اس اہم تجارتی سہولت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس سٹیٹس کا برقرار رہنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان نے یہ اسٹیٹس 2024 سے 2027 تک حاصل کیا ہے اور اس کے حصول میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں، لہٰذا اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کے ذریعے برآمدات اور معاشی ترقی میں ہونے والے اضافے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ایس ایم تنویر نے موجودہ معاشی چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ مزید آزاد تجارتی معاہدوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔اس موقع پر اے پی ٹی ایم اے کے چیئرمین کامران ارشد نے بھی جی ایس پی پلس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 2013 میں 2 ارب ڈالر سے کم تھیں جو اب بڑھ کر 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس میں اس اسٹیٹس کا اہم کردار ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے تاکہ پاکستان کی تجارتی مراعات متاثر نہ ہوں۔دریں اثناء فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے جی ایس پی پلس سٹیٹس کیخلاف پروپیگنڈا مسترد کر دیا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض ودیگر عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس سٹیٹس بہت اہمیت رکھتا ہے، جی ایس پی پلس سٹیٹس سے یورپی ممالک کو برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر ہوگئیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ اور معیشت کی لائف لائن جی ایس پی پلس ہے، آئی ایم ایف کے قرضے سے باہر آنے کے لئے ایکسپورٹ آخری حل ہے، پاکستان معاشی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے، پاکستان کے پاس جی ایس پی پلس سٹیٹس نہ رہنے سے ملکی برآمدآت کا حجم زمین بوس ہو جائے گا