قاسم گولڈ سمتھ نے جی ایس پی سٹیٹس ختم کرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ دوسرا 9 مئی کیا عظمیٰ بخاری

فتنہ خان کی اپنے بیٹے قاسم گولڈ سمتھ سے 30 منٹ ہونے والی ملاقات کا مقصد محض پاکستان کے جی ایس پی سٹیٹس کو ختم کروانا ہے
اس فساد پارٹی کی ملک دشمن سازشیں اب ہرگز کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی:وزیراطلاعات پنجاب کی پریس کانفرنس
لاہور (سپیشل رپورٹر)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہِ راست ٹیلی کاسٹ ہونے والی تقریب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "دوسرے 9 مئی" کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا بنیادی مقصد پاکستان کے 'جی ایس پی پلس' (GSP+) اسٹیٹس کو ختم کروانے کی سازش کرنا تھا، جس کے مرکزی کردار بانی پی ٹی آئی کے بیٹے قاسم خان اور غیر ملکی شہری زلفی بخاری ہیں۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق، اس پاکستان مخالف مہم میں کالعدم بی ایل اے (BLA) کی ذیلی تنظیم بی ایم ایم (BMM) کے رہنما بھی شامل تھے، جبکہ یہ ٹولہ یورپی یونین میں اسرائیلی لابی کے ساتھ مل کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو حاصل سہولیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا  عید پر ان کی بیٹوں سے آدھا گھنٹہ بات کرائی گئی، لیکن حیرت ہے کہ ان "انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئنز" کو اپنا دورِ اقتدار یاد نہیں رہا جب باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا اور مخالفین پر منشیات کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔انکا کہنا تھا کہڈاکٹر عثمان کو بتانا چاہیے تھا کہ اسکا کزن اتنا کرپٹ ہے کہ خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی کو بھی بیچ کر کھا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس 'فساد پارٹی' کی ملک دشمن سازشیں اب ہرگز کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کے بعد 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس نے ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔ اس ترقی سے پاکستانی عوام کو کاروبار اور روزگار کے بے شمار مواقع میسر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں ترقی کی صلاحیتیں بہت زیادہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ داخلی دشمن اور کچھ عناصر موجود ہیں جو ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایک تقریب کے دوران پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں داخلی اور بیرونی عناصر نے حصہ لیا۔ اس تقریب میں فتنہ خان کے بیٹے، بی ایل اے اور بی ایم ایم جیسے عناصر، اور غیر ملکی شہری شامل تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام انسانی حقوق کے نام پر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ریاست کے اقدامات شفاف اور قانونی بنیادوں پر تھے، اور کسی ذاتی دشمنی یا سیاسی انتقام کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی گئی۔