اسرائیلی فوج کی غزہ پر فضائی حملوں کا مقصد حماس اور اسلامی جہاد کی قیادت کے اہم ارکان کو نشانہ بنانا ہے، جن پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
حالیہ واقعات میں، حماس کے ترجمان عبداللطیف القنوع اور اسلامی جہاد کے ترجمان ابو حمزہ کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔عبداللطیف القنوع، جو حماس کے اہم ترجمانوں میں شمار ہوتے تھے، 7 اکتوبر 2018 میں عربی ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے نظر آئے تھے۔ اسرائیل کے حملے میں ان کی موت کی تصدیق کی گئی ہے، جس میں یہ کہا گیا کہ وہ نہ صرف حماس کے میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے پروپیگنڈے اور نفسیاتی دہشت گردی کے لیے کام کر رہے تھے، بلکہ وہ حماس کے عسکری ونگ کا حصہ بھی تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دے رہے تھے اور غزہ کے علاقے اور اس کے باہر حماس کی سرگرمیوں کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے میں ملوث تھے۔اس کے علاوہ، اسلامک جہاد کے ترجمان ابو حمزہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ ابو حمزہ کی شناخت خفیہ رکھی گئی تھی اور وہ اکثر فوجی یونیفارم میں ملبوس نظر آتے تھے۔
ان کی ہلاکت 18 مارچ کو غزہ کے النصیرات علاقے میں اسرائیلی حملے کے دوران ہوئی تھی، جس میں ان کی بیوی بھی ہلاک ہو گئی۔ اس کے بعد فلسطینی میڈیا نے ابو حمزہ کا اصل نام "نجی ابو سیف" بتایا۔اس کے علاوہ، اسلامی جہاد کے اہم رہنما حسن الناعم کی ہلاکت کی خبر بھی آئی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی خان یونس پر بمباری کے دوران مارا گیا تھا۔ حسن الناعم، جو راکٹ حملوں کے منصوبہ ساز تھے، اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ملوث تھے۔یہ تمام حملے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد حماس اور اسلامی جہاد کے رہنماؤں اور ان کے آپریٹوز کو نشانہ بنانا ہے، جو اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔