حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی تصدیق کردی، اسرائیل 2 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا

حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی تصدیق کردی، اسرائیل 2 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا

ویب ڈیسک: حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

حماس کے مطابق معاہدے میں غزہ پر جنگ کے خاتمے، قابض افواج کے انخلا، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیلی حکومت زندہ یرغمالیوں کے بدلے 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی، جب کہ یرغمالیوں کا تبادلہ معاہدہ نافذ ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر عمل میں لایا جائے گا۔حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، معاہدے کے ضامن ممالک اور دیگر عرب، اسلامی و بین الاقوامی فریق اس بات کو یقینی بنائیں کہ قابض حکومت معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے۔

حماس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور تنظیم آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔مزید برآں، حماس نے قطر، مصر اور ترکی کے برادرانہ کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو غزہ میں جنگ کے مستقل خاتمے اور قابض افواج کے مکمل انخلا کے لیے کی جا رہی ہیں۔