اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان غزہ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرے گا، مگر حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں، جہاں وہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے دورے پر ہیں۔ آج وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے اور اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔اس کے علاوہ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں، اور نائب وزیراعظم نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ترجمان کے مطابق، آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیراعظم نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔وزیراعظم نے ویانا، آسٹریا کا دورہ بھی کیا، جو آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی دعوت پر تھا، اور اس دورے کے نتیجے میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
علاوہ ازیں، وزیر اعظم نے آسٹریا میں انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے ملاقات کی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے قیام میں کردار ادا کرے گا، اور غزہ بورڈ آف پیس سے امیدیں وابستہ ہیں کہ اس سے غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے میں شامل نہیں ہے۔ نائب وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ ہم امن عمل میں شریک ہیں، مگر حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔مزید بتایا کہ، رواں ہفتے، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق قانون کی مذمت کی۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس دیکھی گئی ہیں، اور پاکستان میں بھارتی پشت پناہی سے فعال دہشت گرد گروہوں کے شواہد موجود ہیں۔
انٹرنیشنل سیکیورٹی فورسز پر کسی فیصلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔