پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نشستیں مینڈیٹ چوروں کو دی گئیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 39 امیدواروں کے نوٹیفکیشن کو کسی نے چیلنج نہیں کیا، ہمیں اُمید تھی کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر باقی صوبوں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ 15 فروری کو ہمارے آزاد امیدواروں کا نوٹیفکیشن ہوا اور ہم نے فوری طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے، مگر 22 فروری کو الیکشن کمیشن نے 78 مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دیں، جنہیں خالی بھی رکھا جا سکتا تھا۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ فل بینچ کے ذریعے ریویو کرتی تو ہمیں اعتراض نہ ہوتا، ہم صرف اپنے ارکان کے لیے مخصوص نشستیں مانگ رہے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے 859 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا، اور ان کے ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے اور وہیں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کا حصول آج پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے، ہمارے پارلیمانی لیڈرز کے خلاف کیسز بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ انصاف فراہم کیا جائے، کیونکہ جب انصاف نہ ہو تو ملک اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے تمام نوٹیفکیشنز جاری کیے جائیں۔