وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات اور انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق مطالبات کو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب ہونے والی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو ان کے مطابق انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ جمہوری سوچ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے مطالبات انتخابات سے قبل عوام کے سامنے رکھے جائیں تاکہ لوگ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں اور نمائندگی کا فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہو، بصورت دیگر یہ رویہ بلیک میلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ شہر اور تحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک نشست منسلک ہے جبکہ پاکستان قومی اسمبلی کی دو نشستیں بھی اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں کشمیر اسمبلی کے حلقے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں جموں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے۔
وزیر دفاع نے 1947 کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مہاجرین نے آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور لاکھوں لوگ ہجرت کے دوران متاثر ہوئے، اس لیے انہیں ان کے نمائندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔خواجہ آصف نے زور دیا کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ نظام متاثر نہ ہو اور عوامی رائے کا احترام برقرار رہے۔