ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی افسران، بیلسٹک میزائل پروگرام کے سربراہ، جوہری سائنسدانوں، خواتین اور بچوں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر انقلاب اسکوائر پر ہزاروں افراد کا ہجوم اُمڈ آیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے "IRIB" کے مطابق ہزاروں ایرانی شہری انقلاب اسکوائر پر جمع ہوئے جہاں پرچم میں لپٹے تابوت رکھے گئے تھے۔ شہری تابوتوں کو چھونے اور چومنے کے جذباتی مناظر پیش کرتے رہے، جبکہ حب الوطنی کے نغمے فضا میں گونجتے رہے۔نماز جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان، اعلیٰ عسکری قیادت اور حکومتی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شہید ہونے والے اہم کمانڈروں کی تصاویر آویزاں کی گئیں جن میں میجر جنرل حسین سلامی، جنرل محمد باقری، اور جنرل امیر علی حاجی زادہ شامل تھے۔نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "تسنیم" کے مطابق جنازے کے شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔
اسٹیج پر جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی کی تصویر بھی موجود تھی۔ جنازے میں 4 خواتین اور 4 بچوں کے تابوت بھی شامل تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔سرکاری سطح پر دفاتر بند کیے گئے تاکہ ملازمین بھی اس جنازے میں شرکت کر سکیں۔ یہ جنگ بندی کے بعد ایرانی اعلیٰ فوجی قیادت کی پہلی عوامی سطح پر تدفین تھی، جو پورے ملک میں شدید جذبات اور غم و غصے کا باعث بنی۔