ایران نے اسرائیلی حملوں میں 6 اعلیٰ جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق کر دی

ایران نے اسرائیلی حملوں میں 6 اعلیٰ جوہری سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق کر دی

تہران: ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے 6 اہم جوہری سائنسدان شہید ہو گئے ہیں۔

 ان سائنسدانوں کا تعلق ایران کے حساس اور اہم جوہری پروگرام سے تھا، اور وہ طویل عرصے سے ملک کی ایٹمی خودمختاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والے سائنسدانوں میں شامل ہیں:

عبدالحمید منوچہر
احمد رضا ذوالفقاری
سید امیر حسین فقیہی
مطّلبی‌ زاده
محمد مہدی تهرانچی – اسلامک آزاد یونیورسٹی کے صدر
فریدون عباسی – ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سابق سربراہ
ذرائع کے مطابق یہ حملے تہران، اصفہان، قم اور دیگر اہم شہروں میں کیے گئے جہاں جوہری تحقیقاتی مراکز اور سائنسدانوں کی رہائش گاہیں واقع تھیں۔ سرکاری میڈیا اور عینی شاہدین کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان سائنسدانوں کو مخصوص منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا، اور کئی مقامات پر تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔ان شہادتوں پر ایران بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ان حملوں کو ایران کی علمی اور سائنسی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ شہید ہونے والے یہ سائنسدان یورینیم افزودگی، نیوکلئیر فزکس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ جیسے اہم شعبوں سے وابستہ تھے اور ان کی شہادت کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے لیے ایک بھاری نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر اور حکومتی نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ ان شہادتوں کا جواب دیا جائے گا، جبکہ ملک بھر میں ان سائنسدانوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔