ایران نے فردو، اصفہان اور ناتنز کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی تصدیق کر دی
مقام: نیویارک / تہران
تاریخ: 14 جون 2025
ذرائع: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)، اقوام متحدہ، ایرانی حکام
اہم نکات:
ایران نے پہلی مرتبہ فردو، اصفہان اور ناتنز کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی تصدیق کر دی ہے.IAEA کے مطابق، ناتنز کا زمین سے اوپر واقع پائلٹ یورینیم افزودگی پلانٹ تباہ ہو چکا ہے.اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے مزید دو نیوکلیئر سائیٹس — فردو اور اصفہان — پر حملوں کی اطلاع دی گئی ہے
IAEA کی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا:"ایرانی حکام نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ فردو فیول افزودگی پلانٹ اور اصفہان نیوکلیئر سینٹر پر بھی حملے ہوئے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا:"ابھی ہمارے پاس ایسی معلومات ناکافی ہیں جو ان تنصیبات کے گرد وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی موجودگی کی نشاندہی کر سکیں۔"
ناتنز کمپلیکس کو شدید نقصان
IAEA کی رپورٹ کے مطابق:ناتنز نیوکلئیر سائٹ پر واقع پائلٹ افزودگی پلانٹ مکمل تباہ ہو چکا ہے.یہ وہی پلانٹ ہے جہاں تجرباتی سینٹری فیوجز نصب تھے.
حملے میں استعمال کی گئی گائیڈڈ میزائلوں یا اسمارٹ بموں نے زمین سے اوپر کی اہم تنصیب کو ہدف بنایا
فردو اور اصفہان پر حملے کی اسرائیلی تصدیق پہلے ہی ہو چکی تھی
اسرائیل نے جمعے کے روز پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس نے:
ناتنز کے ساتھ ساتھ فردو اور اصفہان کی نیوکلئیر تنصیبات پر بھی ایئر اسٹرائیکس کیں
اب IAEA کی رپورٹ میں ایرانی حکام کی تصدیق کے بعد یہ دعوے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں
ریڈی ایشن لیک کی تردید
ناتنز حملے کے بعد IAEA کی ٹیم نے رپورٹ کیا کہ وہاں کے فضائی تجزیے میں غیر معمولی ریڈی ایشن اخراج کا کوئی اشارہ نہیں ملا.اس کا مطلب یہ ہے کہ یورینیم یا دیگر تابکار مواد کا بیرونی اخراج نہیں ہوا
عالمی تشویش میں اضافہ
اس تصدیق کے بعد ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے.ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حملے نیوکلیئر کور یا یورینیم ذخائر کے قریب ہوئے ہوں، تو تابکاری کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
تجزیہ:
اسرائیل کے جوابی حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نیوکلیئر تنصیبات اب فوجی تصادم کا نیا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ایرانی حکومت کا ممکنہ ردعمل اور اقوامِ متحدہ کی پوزیشن اگلے چند دنوں میں خطے کے امن کے لیے فیصلہ کن ہو گی۔