ایران میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے علی لاریجانی، جو سابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اہم سیاسی و سیکیورٹی رہنما تھے، اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کی اجتماعی نماز جنازہ انقلاب اسکوائر میں ادا کی گئی۔
اس موقع پر ہزاروں افراد نے شرکت کی اور عوام نے شدید سوگ اور غم کا اظہار کیا۔نماز جنازہ کے دوران اجتماعی دعاؤں اور نعرہ تکبیر کے ساتھ حملے میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ عوامی شرکت نے ملک میں غم و غصے اور انتقام کے جذبے کو نمایاں کر دیا۔اسی روز امریکی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایرانی بحری جہاز کے عملے کی نماز جنازہ بھی منعقد کی گئی، جو سری لنکا کے نزدیک امریکی آبدوز کے حملے میں تباہ ہوا تھا۔ اس واقعے میں جہاز کے متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ایرانی قیادت نے حملے کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے واضح کیا کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کا جواب غیر معمولی اور فیصلہ کن ہوگا۔ صدر مسعود پزشکیان اور دیگر عسکری قیادت نے کہا کہ شہداء کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع اور علاقائی سکیورٹی کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔حالیہ صورتحال کے بعد ایران اور اس کے اتحادیوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، اور اس خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔