تہران : اسرائیل کے مبینہ فضائی حملے میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ سمیت 20 سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں۔
یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نطنز جوہری تنصیب پر بھی حملہ
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اسرائیل نے نطنز میں واقع ایران کی کلیدی جوہری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا۔ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں تنصیب کی بیرونی سطح کو نقصان پہنچا ہے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سرکاری موقف
ابھی تک ایرانی حکومت کی جانب سے مکمل سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن حملے کو ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ایرانی اعلیٰ قیادت جلد اس حملے کا جوابی لائحہ عمل جاری کرے گی۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی سیکورٹی بحران اور پراکسی تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ کارروائی ایران کو فوجی و سفارتی سطح پر سخت ردعمل دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔