ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ایرانی سفارت خانے نے بیان میں واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں اور تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے بارہا واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے دفاعی دائرہ کا حصہ ہے اور اس راستے کی حفاظت قوانین کے مطابق ہونی چاہیے۔ سفارت خانے نے خبردار کیا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سے غیر ارادی واقعات ہو سکتے ہیں، جن کی ذمہ داری ان فریقین پر عائد ہوگی جو سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب، گزشتہ روز پاناما کے قریب ایک کارگو جہاز میں دھماکا اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں 24 افراد سوار تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اس جہاز پر فائرنگ کی۔ امریکہ نے جنوبی کوریا سے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے لیے امریکی آپریشنز میں شامل ہونے کا مطالبہ بھی کیا، جس پر جنوبی کوریا نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ بعد میں، جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر نے اعلان کیا کہ پروجیکٹ فریڈم کی معطلی کے بعد اس حوالے سے مزید غور و فکر کی ضرورت نہیں رہی۔