سکولوں میں کھیلوں کی سہولتیں بہتر بنانے کا منصوبہ ٹھپ

 آئندہ مالی سال بجٹ میں سکول گرا ئونڈز کی اپ گریڈیشن کیلئے فنڈز نہیں 
 میدان بند کرنا نئی نسل کو ذہنی و جسمانی معذور بنانے کے مترادف:اساتذہ 
لاہور (خصوصی رپورٹ) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فنڈز نہ ملنے کے باعث محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے صوبے بھر کے سرکاری سکولوں میں کھیلوں کی سہولتوں کو بہتر بنانے کا منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا ۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں سکول گرا ئونڈز کی اپ گریڈیشن کیلئے کوئی مخصوص فنڈز نہیں رکھے گئے جس سے ہزاروں سکولوں میں کھیلوں کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کا خواب ادھورا رہ گیا ۔محکمہ نے گزشتہ سال ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت محکمہ سپورٹس کے ساتھ مل کر گرا ئونڈز کو بہتر بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا تخمینہ ایک ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اس میں سے 50 کروڑ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جبکہ بقیہ رقم سپورٹس ڈیپارٹمنٹ نیفراہم کرناتھی۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر ان سکولوں کو منتخب کیا جانا تھا جہاں گرا ئونڈز موجود تو ہیں مگر قابل استعمال نہیں، یا پھر صفائی، لیولنگ، گھاس، پچ اور دیگر کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم تازہ ترین بجٹ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ منصوبہ فنڈنگ کی کمی کا شکار ہو چکا ہے،اس کیلئیکسی نئی سکیم کو شامل کیا گیا اور نہ ہی سابق وعدوں کی تکمیل کیلئے رقم رکھی گئی ہے۔ پنجاب ٹیچرز یونین کے مطابق تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں، کھیلوں کے میدان بند کرنا نئی نسل کو ذہنی و جسمانی طور پر معذور بنانے کے مترادف ہے۔