بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے 1.38 ارب روپے کی رقم وظائف کی صورت میں تقسیم کی گئی تھی
یہ اہم منصوبہ 'سوشل پروٹیکشن اتھارٹی' PSPA سے نکال کر 'محکمہ لٹریسی و غیر رسمی تعلیم' کو منتقل کر دیا گیا
فیصل آباد(آ ئی این پی)فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے معصوم بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کا منصوبہ حکومتی غفلت اور انتظامی کاغذی کارروائیوں کی نذر ہو گیا۔ 2016 میں شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جون 2018 تک 1.38 ارب روپے کی رقم وظائف کی صورت میں تقسیم کی گئی تھی تاکہ انہیں چائلڈ لیبر سے نکالا جا سکے۔?تاہم، بعد ازاں چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی سفارش پر یہ اہم منصوبہ 'سوشل پروٹیکشن اتھارٹی' (PSPA) سے نکال کر 'محکمہ لٹریسی و غیر رسمی تعلیم' کو منتقل کر دیا گیا۔ 2018 میں اس نقل و حمل کے فیصلے کے بعد سے اب تک 8 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس دوران اس منصوبے کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہا