ویب ڈیسک: نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاحتی مقامات پر بڑھتے ہوئے حادثات اور عدم تحفظ کی صورتحال ٹورازم کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
لاہور سے جاری اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے دریائے سوات میں حالیہ سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس سانحے پر صدمے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو فوری طور پر سیاحتی علاقوں میں سیفٹی کے مؤثر اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔انہوں نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط پر مبنی بجٹ عوام پر مسلط کر دیے گئے ہیں، جس کے اثرات مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں مخصوص نشستوں کے فیصلے عدلیہ اور پارلیمنٹ پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، جس سے جمہوری عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں جاری سیاسی بحرانوں سے فائدہ اٹھا کر اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے، جو جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔آخر میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران ملی یکجہتی کونسل فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔