نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، لیاقت بلوچ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ خود تذبذب اور مخمصے کا شکار ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور محبِ وطن افراد کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔لیاقت بلوچ نے اتحادی حکومت کی اندرونی کشمکش کو ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی اتحاد میں کئی مسائل ہیں اور ان کی آپسی لڑائیوں نے عوام کو مشکلات میں ڈالا ہوا ہے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے 1973 کے آئین میں ترمیم کے امکانات کو بھی اجاگر کیا، اور کہا کہ حکمراں طبقہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے آئین میں تبدیلیاں کر سکتا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلیوں کا مقصد ملک میں آئینی استحکام کو نقصان پہنچانا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہو سکتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع کرم کے راستوں کو کھولا جائے تاکہ وہاں کی عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران اور اقتصادی مشکلات کے پیش نظر، حکومت کو فوری طور پر عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ ملک میں قیام امن اور ترقی کی راہیں ہموار ہو سکیں۔