وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سیاحت کے فروغ کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں 170 سیاحتی مقامات اور ٹریلز کی تعمیر و مرمت اور بحالی کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ترجمان حکومت پنجاب کے مطابق، پنجاب کی پہلی مکمل ٹورازم میگنی فیسینٹ ایپ تیار کی گئی ہے، جس کا جلد آغاز کیا جائے گا۔ اس ایپ کے ذریعے سیاح 170 سیاحتی مقامات کی ورچوئل سیر کر سکیں گے اور ساتھ ہی ٹریول وزٹ اور ہوٹل کی بکنگ بھی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، فوڈ پانڈا اور دیگر سروسز بھی ایپ کے ذریعے دستیاب ہوں گی، اور چیٹ بوٹ کے ذریعے سیاحوں کو مفید معلومات فراہم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کے سب سے بڑے ٹورازم پلان کی اصولی منظوری دی، جس کے تحت مذہبی، تاریخی، قدیمی ورثہ، آثار قدیمہ اور ایکوٹورازم کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سیاحوں کے لیے ٹورسٹ ویلجز بنانے اور پہلی بار ٹورازم ٹریلز تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں سیاحتی مقامات کو ٹورازم کلسٹر کے طور پر ڈویلپ کیا جائے گا، جن میں مال روڈ، وال سٹی آف لاہور، سکھ سائٹ اور جی ٹی روڈ کی مغل یادگاریں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، گندھار تہذیب سے متعلق گندھار ٹریل بھی تیار کی جائے گی، جس میں ٹیکسلا میوزیم اور دیگر تاریخی مقامات شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں عالمی سیاحت کے فروغ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور تمام سیاحتی مقامات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ ٹیکسلا کو مکمل ٹورسٹ سائٹ بنایا جائے گا، اور یہاں فائیو سٹار ہوٹل بھی تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی ایکٹ 2025 پیش کیا جائے گا تاکہ سیاحت کے فروغ کے لیے گورننس کو بہتر بنایا جا سکے۔