عبدالرزاق برق
مشرق وسطیٰ اورجنوبی ایشیا میں تاریخ پرتاریخ لکھنے کایہ منظراس طرح دیکھنے کو ملا کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اوراسلام کے دوازلی دشمن ملک بھارت اوراسرائیل کوگزشتہ دومہنوں میں یکے بعددیگرے جاری جنگ میں جوابی کارروائی میں شکست دیاگیا یہ شکست اس طرح دیاگیا کہ اسرائیل کے دوست بھارت کو پاکستان نے مئی کے مہنے میں جاری جنگ کے دوران شکست دیاگیا جبکہ دوسراشکست پاکستان کے پڑوسی اسلامی ملک ایران نے جرات اورغیرت کے ساتھ پہلی بار اسرائیل کے اندرحملے کرکے انہیں شکست سے دوچارکردیاگیا اورانہیں جنگ بندی کرنے پرمجبورکردیا تاریخ ایران کوہمیشہ یادرکھے گی کہ دنیا کے دوایٹمی قوت اوربہترین ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک کوجنگ بندی کرنے پرآمدہ کردیا اورایران کی فتح نے دنیااسلام کاسرفخرسے بلندکردیا اگرچہ جنوبی ایشیا اورمشرق وسطی گزشتہ دومہنوں میں دودفعہ جنگ بندی کی گئی اور امریکی صدر ٹرمپ جواس جنگ میں فریق تھا اورساتھ ہی ایران پرحملہ آوربھی تھا لیکن وہی ٹرمپ جنگ بندی میں ثالث بھی اورقاتل بھی جوکہ انصاف کی ایک نئی شکل اورطاقت کاقانون بھی تاریخ گواہ رہنا کہ خدائی طاقت ڈٹ گیا یہ جنگ ایران نے نہیں بلکہ دشمن نے شروع کیا تھا اورآخری حملہ ایران نے کیا تودشمن کوجنگ سے بھاگنے پرمجبور کردیا کیونکہ ایران ایک بہادراورنڈرقوم والی ملک ہیے اس کی جرات اوربہادری کو سلام کیا جائے تاریخ پرتاریخ لکھنے کاپہلامنظریہ نظر آنے لگا کہ گزشتہ 74سالوں میں پہلی بار یہ ہوا کہ ایک امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف کھل کربات کی گئی اورپہلی باراسرائیل کے وزیراعظم کوگالیاں دی گئی اب ہوسکتاہیے کہ اسرائیل لابی صدرٹرمپ کومعاف نہ کریں ایران اوراسرائیل کے جنگ میں دوسرا منظریہ دیکھاگیا کہ گزشتہ چاردہائیوں سے ایران اوراسرائیل ایک دوسرے کے دشمن ہیے یہ کھبی نہیں ہوا کہ وہ دوسرے پرحملے کریں گے لیکن پہلی دفعہ پیچھلے سال اکتوبرکے مہنے سے ایک دوسرے پرحملے کرنا بڑھ گئے ہیں ایران اوراسرائیل کی اس بارہ روزہ جنگ میں چھوتی بار یہ منظرنظرآیا کہ تاریخ میں پہلی بار جنگ اچانک شروع ہوگئی اوراچانک ختم کی گئی اوراس جنگ کو روکنے میں امریکی صدرٹرمپ نے سب سے زیادہ کردارادا کیا تاریخ کا پانچواں کامنظرنامہ یہ نظرآنے لگا کہ تاریخ میں پہلی بار ایران اوراسرائیل کے اس بارہ روزجنگ میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل عرب لیگ اوآئی سی کاکردارمردہ پایاگیا اورعالمی ضمیرمنافقت میں ڈوبادیکھاگیا امریکہ اوراسرائیل کوپہلی باریہ محسوس ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف کوئی طاقت ایران کی موجودہ رجیم کی شکل میں موجودہیے دنیانے تاریخ کے اوراق میں ایک فیصلہ کن باب یہ دیکھا کہ عالمی طاقت نے اپنازخم چھپاکرالفاظ کی پردہ داری سے اپنی شکست کوجنگ بندی کانام دیا ٹرمپ کی یہ جنگ بندی درحقیقت امریکہ کی عسکری اورفکری شکست کااعتراف ہیے امریکہ کی یہ خام خیالی کہ ایران میں کوئی عوامی بغاوت جنم لے گی خاک میں مل گئی لیکن ان 12روز میں دینا کی ساری قوتوں کی موجودگی میں اسرائیل امریکہ نے ایران کی موجودہ رجیم کوچینج نہیں کیا انکی دفاعی ومزاحمتی قوت نہ توڑاجاسکا امریکہ اسرائیل
نے ایرانی حکمران اورسپریم لیڈرخامنہ۔ای کوبرطرف کرنے اورانہیں ہٹانے میں ناکام رہا بلکہ انکی عزت واحترم اورطاقت میں اضافہ ہوا امت کے ہرطبقے نے سیدکاساتھ دیا ایران کا نیوکلئیرپروگرام ختم کرنے میں ناکام رہا مزائل پروگرام ختم کرنے میں ناکام رہا ایران میں عوامی بغاوت کی خواہش پروان نہ چڑھاسکی بلکہ ایرانی قوم موجودہ حکومت کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہوگئے طاقتورقوتوں نے ایرانی حکومت کوغیرمشروط سرینڈرکرانے میں ناکام رہا امریکہ اپنا ناجائزاولاداسرائیل کوبچانے میں ناکام رہا اس دوران نہ انقلاب آیا نہ نظام بدلا بلکہ قوم اورفوج پہلے سے زیادہ متحدہوچکی ایران کوغیرمشروط ہتھیارڈالنے پرمجبورکرناخواب ہی رہا نہ دستبرداری ہوئی نہ سرنگوں نہ معذورت نہ پچھتاوا اسرائیل اس بارہ دن میں خطے کا چوھدری بننا چاہتا تھالیکن ایران نے اس کوشش کوبھی ناکام کیا اوراسرائیل امریکہ سمت پورایورپ مشرق وسطیٰ کی اپنی جاری کھیل میں بری طرح اس لئے ناکام ہوا کہ یہ ایرانی قوم کی عزت تھی کہ وہ پابندیوں میں جگڑی گئی شہداء کے جنازے اٹھاتی رہی لیکن یہ قوم جھکی نہیں بکی نہیں رکی نہیں ایرانی قوم نے دنیا کویہ دیکھایا کہ غیرت کاتعلق نہ اسلحے سے ہوتاہیے نہ اقوام متحدہ کی ووٹوں سے بلکہ ایمان اتحاداورقیادت سے ہوتاہیے آج اگرایران کھڑاہیے تواس کے پیچھے ایرانی قوم اوراس کے دعائیں اوراس کی ایک قوم کی بیداری ہیے ایران کے لوگ نہایت سخت جان اورمزاحمت پسندہیں ان کی تاریخ بتاتی ہیے کہ وہ کسی قیمت پرشکست تسلیم نہیں کرتے امریکی حملوں کے بعدنہ صرف ایران کے مزائلوں میں شدت آتی گئی بلکہ عالمی تجارت کے گھنٹہ گھرآبنائے ہرمزکوبھی بندکرنے کی دھمکیاں دی گئی ایران نے اپنی سفارت کاری سے جس جرات اوراستقامت کامظاہرہ کیا وہ قابل دادہیے ایرانی حکومت اورقوم نے اس سچ کوبے نقاب کیا ہے کہ۔کون حق کے ساتھ کھڑاہیے اورکون واشنگٹن کی گودمیں بھٹاہیے اسی ایران کے لوگ وہی لوگ ہیں جس نے دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ اگرایمان زندہ ہو تونہ پاپندیاں ہمیں روک سکتی ہیں نہ بلیک میلنگ نہ ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکیاں بلکہ ایرانی قیادت نے جرات غیرت خوداری عظمت بہادری حوصلے کے ساتھ جوابی حملہ کرکے طاقتورقوتوں کاخوف اورتکبرکو خاک میں ملادیا جوکہ یہ اسلام کی کامیابی ہیے یہ پاکستان کی کامیابی ہیے ظلم کی دیوارجتنی بھی اونچی ہو سچائی اورمزاحمت کے سیلاب کے سامنے کھڑی نہیں رہ سکتی اورایران پرحملے کے بعدپاکستان کانمبرکھبی نہیں آئے گا ایران اس وقت نہ صرف جغرافیائی محازپرلڑرہا بلکہ تہذیبی فکری اورنظریاتی محازپربھی ملت اسلامیہ کی بقاکاقلعہ بن چکاہیے ایران پرجوکھیل اس وقت کھیلاجارہاہیے اس کے پیچھے اسرائیل اورامریکہ کرداراداکررہا جوبرسوں سے ایک ہی اسکرپٹ پرعمل کررہیے ہیں تاکہ مسلمان کوآپس میں الجھایا جائیں جس سے اس کے وسائل وحدت اورخوداری کونگل سکیں تباہی کی وہ چالیں جوہم نے بارباردیکھی ہیں عراق کوایران سے لڑوایاگیا 1980کویت پرعراق کوچھڑھایاگیا 1991 میں 2011شام کوخانہ جنگی میں جھونکاگیا لیبیاکواندرسے توڑاگیا اب ایران کے حملوں کوخلجیی ممالک کی خودمختاری کے خلاف دیکھایا جارہا ہے جبکہ اصل نشانہ امریکی آڈے ہیں جوان ملکوں میں واقع ہیں ایران کی کاروائیوں کو خلیجی برادرملک کے خلاف قراردینا دراصل اسلامی وحدت کے خلاف چال ہے ہمیں سمجھناہوگا اگرھم نے جذبات میڈیا پروپیگنڈے اوربیرونی بیانئے کے زیراثرآپس میں انگلیاں اٹھاناشروع کردیں تواگلانشانہ نہ صرف تہران نہیں بلکہ ریاض دوحہ مسقط اوراسلام آبادبھی بن سکتے ہیں سب کوہوشیارہونا چاہیے کہ دشمن کی چال میں نہ آئیں حقیقی ھدف پہچانیں اسرائیل جارحیت کے ساتھ امریکی سامراجیت اورمسلم دنیا
کاانتشارہمیں مذاکرات سفارت اخوت امت واحدبنناہوگادشمن کااصل منصوبہ ہیے کہ تم لڑوھم فائدہ اٹھائیں گیایران اسرائیل کی حالیہ کشیدگی محض دوریاستوں کی جنگ نہیں بلکہ تہزیبی نظریاتی جغرافیائی اورعالمی معشیت کواپنے لیپیٹ میں لینے والاجنگ ہیے اگرامریکہ اسرائیل کی پشت پرکھڑا ہوکرایران میں کسی بھی وقت رجیم چینج خواب پوراکرنے کی کوشش کرتا ہیے تویہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھرکے لئے ایک نئی غیراعلانیہ عالمی جنگ کا آغازبن سکتاہیے ایران کا موجودہ الہی نظریاتی نظام جوصرف اداروں اورآئینی ڈھانچوں تک محدودنہیں بلکہ ایرانی معاشرے کے روحانی شعورانقلابی روایت اورفرہنگ شہادت پرمبنی قومی کلچرمیں شہری جڑیں رکھتا ہے رجیم چینج کی صورت میں ان نٹ ورکس کی۔مشترکہ مزاحمت ایک ایسی عالمی شدت پسندی کوجنم دے گی جس کی شدت اورہمہ۔گیری کا اندازہ لگانا موجودہ عالمی قیادتوں کے بس سے باہر ہوگا یہ صرف مشرق وسطیٰ کاردعمل نہیں ہوگا بلکہ لندن پیرس نیوریارک دہلی تل ایبیب دبئی اورریاض جیسے شہروں تک پھلینے والاایک ہمہ گیرفکری انتقام ہوگا