غزہ: جنگ، جبر اور انصاف کی شکست

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
غزہ فلسطین کاایک چھوٹاساساحلی علاقہ ہے جس کی سرحدیں اسرائیل،مصراوربحیرہ روم سے ملتی ہیں۔اس کی آبادی تقریبا23لاکھ ہے اوریہ دنیاکے سب سے گنجان آباداورمحروم علاقوں میں شمارہوتاہے۔2007سے غزہ پرحماس کی حکمرانی ہے،جواسرائیل کے ظلم وسستم کے خلاف جدوجہدآزادی میں مصروف ہے۔
اکتوبر2023میں حماس اوراسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعدغزہ ایک شدید انسانی بحران کاشکارہوگیا۔اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مئی2025میں ایک نئی پالیسی کی منظوری دی جس میں غزہ پرقبضہ،حماس کوختم کرنے کیلئیبھرپور کارروائیاں،اورانسانی امدادپرکنٹرول جیسے نکات شامل تھے۔یہ پالیسی داخلی سیاسی عوامل اوربین الاقوامی سفارتی چیلنجزکے بیچ میں متوازن ہونے کی بجائے تنازع کومزیدگہراکررہی ہے۔منصوبہ کے مطابق غزہ میں فوجی کارروائیوں میں شدت، علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا، حماس کو مکمل طور پر کمزور کرنا اور انسانی امداد کی فراہمی کے راستے بند کرنا شامل ہے۔ اس منصوبے کو دنیا بھر میں سخت تنقید کا سامنا ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور موجودہ سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
2005میں اسرائیل نے غزہ سے فوجی انخلاکیاتھالیکن اس کے بعد بھی وہ غزہ کی بری،بحری اورفضائی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔درآمدات،برآمدات،بجلی اورپانی کی فراہمی پرمکمل اسرائیلی کنٹرول ہے۔پچھلی سات دہائیوں سے زائد اسرائیلی بربریت کے خلاف اکتوبر2023 میں حماس کے ایک بڑے حملے کے بعداسرائیل نے غزہ پربھرپور فوجی حملے شروع کیے۔اس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہری شہیداورلاکھوں بے گھرہوگئے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے بڑے حصوں پرزمینی حملوں میں درجنوں اسرائیلی شہریوں کویرغمال بنالیا۔اب مئی2025میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایک نئی پالیسی کی منظوری دی ہے جس میں غزہ کاطویل المدتی فوجی کنٹرول، حماس کوانسانی امدادسے محروم کرنے کی کوشش اورمکمل فوجی تسلط اورقبضہ شامل ہے۔یہی پالیسی اب بین الاقوامی توجہ اور مخالفت کامرکز بن چکی ہے۔
کیااسرائیل غزہ پرقبضہ کرسکتاہے؟بین الاقوامی قوانین کے مطابق چوتھے جنیواکنونشن(1949)اورہیگ ریگولیشنز(1907)کے مطابق،کسی علاقے پر’’فوجی قبضہ‘‘صرف عارضی ہوسکتاہے۔کسی بھی ملک کودوسرے علاقے پرطویل مدتی قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے،جب تک کہ یہ قبضہ دفاعی نوعیت کانہ ہواورجبری الحاق کاارادہ نہ رکھتاہو،اگرچہ عارضی فوجی کنٹرول ممکن ہے،لیکن غزہ جیسے علاقے پرمستقل قبضہ،جہاں اسرائیل پہلے ہی2005میں فوجی انخلاکااعلان کرچکاہو،ایک جارحانہ عمل سمجھا جائے گا۔مقامی آبادی کے حقوق کااحترام کرنالازم ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے2004میں فلسطینی علاقوں پراسرائیلی قبضے کو"غیرقانونی"قراردیاتھا،جس میں غزہ بھی شامل تھا۔ تاہم،اسرائیل نے2005میں غزہ سے اپنی فوجی موجودگی ختم کردی تھی،جس کے بعدسے اس کے قانونی مؤقف میں تبدیلی آئی۔2007سے غزہ پرحماس کاکنٹرول ہے،جبکہ اسرائیل نے زمینی،بحری،اورفضائی محاصرہ جاری رکھاہواہے۔بین الاقوامی تنظیمیں اسے ’’بلاکڈ‘‘یا’’محدودخودمختاری"والاعلاقہ قراردیتی ہیں۔اگراسرائیل دوبارہ غزہ میں فوجی آپریشنزکے ذریعے براہ راست کنٹرول حاصل کرتاہے،تو یہ بین الاقوامی قانون کے تحت’’غاصبانہ قبضہ‘‘شمارہوسکتاہے،جس کیلئے خاص شرائط اورذمہ داریاں عائدہوتی ہیں۔
شہریوں کواجتماعی سزادیناغیرقانونی ہے۔خوراک،ادویات اورطبی سہولتوں کوروکناانسانیت کے خلاف جرم ہے۔اگراسرائیل مستقل قبضے کی جانب بڑھتاہے تویہ استعماری تسلط کی ایک شکل ہوگی اوراسرائیلی اقدام کی حیثیت غیرقانونی تصورکی جائے گی۔بین الاقوامی فوجداری عدالت اوراقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹس میں بھی غزہ میں اسرائیلی اقدامات کوممکنہ ’’جنگی جرائم‘‘اور’’اجتماعی سزا‘‘کے زمرے میں رکھاگیاہے۔اقوام متحدہ نے اس سے قبل مغربی کنارے میں بستیوں کوغیرقانونی قراردیاہے۔غزہ میں بھی ایسا قبضہ قانونی طورپر تسلیم نہیں کیاجائے گا۔
جنگ بندی کی کوششوں کے باوجوداسرائیل کی جانب سے غزہ پرحملے جاری رکھنانیتن یاہوکی ایک سیاسی وعسکری مکارانہ حکمت عملی کاحصہ ہے۔نیتن یاہوسیاسی دباؤ،کرپشن کے مقدمات،داخلی احتجاج،دائیں بازوکے دبااورعدالتی الزامات کے پس منظر میںسے نمٹنے کیلئے جنگ کوطول دیناچاہتاہے۔نیتن یاہوگزشتہ کئی برسوں سے سیاسی دباؤ کاسامناکررہا ہے،جن میں کرپشن کے الزامات،احتجاجی مظاہرے اورداخلی اختلافات شامل ہیں۔جنگ کوجاری رکھ کراس نے ان مسائل سے توجہ ہٹائی ہے۔اندرونی دبا سے بچنے کیلئے نیتن یاہو نے جنگ کوسیاسی ڈھال بنالیاہے۔اس کے حامیوں اوردائیں بازوکے حلقوں میں یہ تاثرپھیلایاجارہاہے کہ جب تک حماس کومکمل طورپرنیست ونابودنہ کیاجائے،امن ممکن نہیں۔
نیتن یاہواپنے انتخابی بیانیے کومضبوط کرنے اورجاری مقدمات سے جان چھڑانے کیلئے اسرائیلی عوام کوحماس کاخطرہ بتاکرقوم کوایک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کرکے احتجاجی تحریکوں کوخاموش کرناچاہتاہے۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہوکے بیانات میں بار بارایسے الفاظ ملتے ہیں جیسے ہماری اولین ترجیح حماس کومکمل ختم کرنا،غزہ کوغیرمسلح کرنااوراپنے مقاصد کی کامیابی کیلئے ہم فتح تک لڑیں گے۔یہ بیانیہ عوامی جذبات کوابھارنے اورسیاسی حمایت برقراررکھنے کی کوشش ہے،چاہے اس کی عسکری حقیقت کچھ بھی ہو۔اس کے بیانات اور قدامات سے واضح ہوتاہے کہ وہ حماس کی مکمل شکست کواپنی سیاسی بقاسے جوڑچکاہے۔اورجنگ کومزیدطویل کرتے ہوئے اسے ممکنہ سیاسی کامیابی کے طورپردیکھتاہے۔حماس کے قبضے میں موجودیرغمالی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ 
یرغمالیوں کی رہائی اورحماس کی فوجی شکست۔تاہم،دونوں مقاصدایک دوسرے سے متصادم ہیں۔حماس یرغمالیوں کی رہائی کو اسرائیلی فوج کے انخلاسے مشروط کرتاہے،جبکہ نیتن یاہوفوجی دبابڑھاکرحماس کوکمزورکرناچاہتے ہیں۔اس کشمکش کانقصان غزہ کے شہریوں کوہورہاہے۔اسرائیل کی داخلی سیاست میں نیتن یاہوپردائیں بازوکے گروہوں کادباؤبھی ہے،جوغزہ پرمکمل کنٹرول کے بغیرکوئی سمجھوتہ قبول کرنے کوتیارنہیں۔
ادھردوسری طرف بین الاقوامی دباکے تحت امریکی حکومت کی جانب سے ایک نیاامن منصوبہ پیش کیاگیاہے،جس میں غزہ کے بعدازجنگ نظم ونسق کیلئے فلسطینی اتھارٹی کومضبوط کرنے کی بات کی گئی ہے۔امریکاچاہتاہے کہ جنگ کے بعدغزہ کانظم ونسق فلسطینی اتھارٹی کے حوالے ہو۔دوریاستی حل کودوبارہ زندہ کیاجائے لیکن اسرائیل اس منصوبے سے متفق نہیں،تاہم،اسرائیلی اقدامات اس منصوبے کی نفی کرتے ہیں،کیونکہ وہ غزہ میں مستقل فوجی موجودگی اورمستقل کنٹرول چاہتے ہیں،جوامریکی تجویز کے برعکس ہے۔
امریکا،یورپی یونین اوراقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجودنیتن یاہوکی حکومت کارویہ سخت گیررہاہے۔اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں۔ 
پہلی وجہ وہ موجودہ جنگ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کررہاہے،جنگ جاری رکھ کرتنقیدکو’’غداری‘‘کے مترادف قرار دیکراسرائیلی عوام کواپنے حق میں برانگیختہ کرکے ان کی حمائت حاصل کرنے کی کوششیں کررہاہے،لیکن اس میں کامیابی نظر نہیں آرہی۔دوسراوہ فوجی برتری کے یقین سے سمجھتاہے کہ عسکری دباؤسے حماس کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکیاجا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں:
یہ حکمت عملی وقتی طورپرمفیدہوسکتی ہے،لیکن یہ اسرائیل کوعالمی سطح پرتنہاکررہی ہے۔جہاں انسانی بحران کوشدت بخش رہی ہے وہاں نیتن یاہوکی موجودہ پالیسیوں سے یرغمالیوں کی واپسی کومشکل تربنارہی ہے۔تقریبا100کے قریب اسرائیلی یرغمالی ابھی بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔اسرائیلی عوام میں ان کی واپسی کادباؤشدیدہے۔اگراسرائیل صرف طاقت کااستعمال کرے توحماس ہر قسم کے مذاکرات سے پیچھے ہٹ جائے گی۔یرغمالیوں کی رہائی صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے،اورمذاکرات کیلئے حماس کو کچھ یقین دہانیاں درکار ہیں،جیسیاسرائیلی افواج کامکمل فوجی انخلااورقیدیوں کی رہائی؛لیکن اب یہ دونوں اہداف بیک وقت حاصل کرناعملی طورپرناممکن لگتاہے۔
اسرائیل کے دوبڑے اہداف ہیں،اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اورحماس کی مکمل شکست،تاہم، یہ دونوں اہداف باہم متضادہیں۔ یرغمالیوں کی رہائی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسرائیل حماس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مفاہمت پرآمادہ ہو،جیساکہ قیدیوں کے تبادلے یافوجی انخلاکے وعدے۔دوسری جانب،اگراسرائیل مکمل عسکری فتح کے راستے پرچلتاہے تووہ حماس کومذاکرات کا کوئی محرک نہیں دیتا۔حماس کیلئے یرغمالی آخری سودے بازی کاپتہ ہیں اوروہ انہیں بغیرکسی بڑے فائدے کے چھوڑنے پرآمادہ نہیں ہوں گے۔
غزہ میں طبی عملے پراسرائیلی فوج نے قریب سے100سے زائدگولیاں چلائیں۔یہ عمل بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی اورسنگین خلاف خلاف ورزی ہے۔جنیوا کنونشن کے تحت طبی ٹیم،ایمبولینس،ہسپتال سب تحفظ یافتہ ہوتے ہیں۔ان پرحملہ نہ صرف اخلاقی طور پرقابل مذمت ہے بلکہ قانونی طورپربھی جنگی جرم ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کومذموم اورناقابل قبول قراردیاہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کی جانب سے بھی اس پرتحقیقات کامطالبہ کیاگیاہے۔طبی ٹیموں پرفائرنگ واضح جنگی جرم ہے۔
(جاری ہے)