فتح کے دعوے، شکست کی حقیقت

شہزاد راجپوت
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنی قوت کے زعم میں مخالف قوتوں کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہی غلطی ایک بار پھر امریکہ نے کی ہے۔ واشنگٹن نے ایران کو کمزور سمجھ کر نہ صرف اسے انڈر ایسٹیمیٹ کیا بلکہ اپنی طاقت کو اوور ایسٹیمیٹ کرتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس کے نتائج آج پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل اور بے یقینی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔امریکی پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ ایران اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیوں کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے گا مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئے۔ ایران نے نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو برقرار رکھا بلکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بھی برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔دلچسپ اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ جب امریکہ اپنی توقعات کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے ایک اور روایت اپنائی۔ شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے فتح کا رنگ دینے کی کوشش شروع کر دی گئی۔ عالمی میڈیا میں ایسے بیانات آنے لگے جن میں امریکی حکام اپنی حکمت عملی کو کامیاب قرار دیتے دکھائی دیے حالانکہ زمینی حالات اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے تھے۔مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات موجود ہیں۔ ان اڈوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہونے والے حملوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ ان عرب ریاستوں کو بھی براہِ راست اس بحران کا حصہ بنا دیا۔اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر خلیجی ممالک کی داخلی سلامتی اور معیشت پر پڑا ہے۔ متحدہ عرب امارات جو کبھی دنیا بھر کے سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں سیاحت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی جیسے شہر جو عالمی تجارت اور تفریح کے مراکز سمجھے جاتے تھے وہاں ہوٹلوں اور تفریح گاہوں کی رونقیں ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔اسی طرح قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ سست روی کا شکار ہے، سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور کاروباری حلقوں میں غیر یقینی کی فضا پائی جا رہی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ان ممالک کو اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ موجودہ حالات میں وہ امریکی فوج کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ چنانچہ بعض حلقوں میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ امریکی افواج اپنی موجودگی محدود کریں یا واپس چلی جائیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے اس صورتحال کو خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کے وزیراعظم کو سعودی عرب مدعو کیا تھا جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں سعودی قیادت نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ خطے کی سلامتی خصوصاً سعودی عرب کے دفاع کے حوالے 
سے اپنا کردار ادا کرے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس اور پیچیدہ ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور دفاعی تعاون موجود ہے جبکہ دوسری طرف خطے میں کسی نئی جنگ کا حصہ بننا پاکستان کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکہ کی پالیسیوں، ایران کے ردعمل اور خلیجی ریاستوں کے خدشات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں کسی بھی چھوٹی غلطی کے بڑے نتائج نکل سکتے ہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے گا یا اپنی ناکامیوں کو کامیابی کا لبادہ پہنا کر آگے بڑھنے کی کوشش جاری رکھے گا؟ اور کیا خلیجی ممالک اپنی معیشت اور سلامتی کو دوبارہ مستحکم کر سکیں گے؟وقت کا پہیہ ضرور گھومتا ہے مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کے زعم میں کیے گئے فیصلے اکثر بڑی طاقتوں کے لیے بھی مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔