اصغر علی جوئیہ
پہلگام ایک خوبصورت وادی، جو امن و سکون کی علامت رہی ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر اسی وادی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے خون آلود کر دیا۔بھارت نے پہلگام میں ایک مبینہ دہشت گرد حملہ کروا کر اس کا الزام حسبِ روایت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کر دیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس واقعے کو انتخابی مہم کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، تاکہ ہندو قوم پرستی کی لہر کو زندہ رکھا جا سکے اور ایک بار پھر عوام کو پاکستان دشمنی کے جنون میں مبتلا کر کے ووٹ بٹورے جا سکیں۔اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالا کوٹ، کوٹلی، اور بھمبر کے علاقوں میں حملوں کی کوشش کی، لیکن پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کے طیارے مار گرائے بلکہ عالمی سطح پر یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومت کو اس ذلت آمیز شکست پر خاموشی اختیار کرنا پڑی، لیکن ان کے عزائم ابھی ختم نہ ہوئے۔رات کے اندھیرے میں بھارت نے ایک نیا محاذ کھولا۔ مختلف شہروں میں میزائل داغے گئے جن میں شہری آبادی، مساجد اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا، جن کا مقصد صرف تباہی پھیلانا تھا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے لاہور، سیالکوٹ اور مظفرآباد میں ہونے والے ان حملوں کا نہایت جرات اور پیشہ ورانہ مہارت سے مقابلہ کیا۔۔پاکستان نے دشمن کے ہر وار کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ "آپریشن بنیان المرصوص" کے تحت پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے پار دشمن کی چوکیوں، ایڈوانس بیسز، اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کئے گئے ان حملوں نے بھارتی فوجی کمان کو ہلا کر رکھ دیا۔ راجوری، پونچھ اور کپواڑہ کے سیکٹرز میں بھارتی فوج کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارتی فوجی مورچوں کو نشانہ بنا کر دشمن کو باور کرایا گیا کہ پاکستان کی زمین پر کسی جارحیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس پورے بحران میں ایک پہلو انتہائی حوصلہ افزا اور قابلِ فخر رہا کہ پاکستانی عوام نے افواج پر بھرپور اعتماد کیا۔ ملک بھر میں کوئی افراتفری دیکھنے میں نہ آئی۔ نہ ہی مہنگائی میں اضافہ ہوا، نہ ہی بازار بند ہوئے، نہ سڑکوں پر ہجوم نظر آیا۔ میڈیا، عوام اور سیاسی قیادت نے مل کر قومی وحدت کا مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور بری افواج نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ عسکری قیادت نے بہترین حکمتِ عملی اپنائی جس میں دشمن کے ارادوں کو بھانپا اور پہلے سے تیاری کے ساتھ بھرپور جوابی وار کیا۔۔مودی حکومت نے جنگی ماحول پیدا کر کے عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری، اقلیتوں پر مظالم اور کسانوں کے احتجاج سے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پاکستان کی جوابی کارروائیوں اور عالمی میڈیا میں سامنے آنے والے حقائق نے بی جے پی کے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔ بھارتی عوام نے مودی حکومت سے سوالات پوچھنے شروع کیے کہ جب پاکستان نے اتنے ٹھوس اور کامیاب جوابی حملے کیے تو بھارت کی طاقت کہاں تھی؟ خود بی جے پی کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ مودی نے ملک کو ایک خطرناک جنگ میں دھکیل کر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔جب دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، تو عالمی برادری کو بالآخر مداخلت کرنا پڑی۔ چین، ترکی، سعودی عرب اور برطانیہ نے فوری طور پر ثالثی کی کوششیں شروع کیں، لیکن فیصلہ کن کردار امریکہ نے ادا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسلام آباد اور نئی دہلی سے رابطے کیے اور دونوں فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی کی جائے۔پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے انتہائی دانشمندی سے امریکہ کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں اپنا مؤقف واضح کیا: پاکستان نے کسی جنگ کی ابتدا نہیں کی، لیکن اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ بھی نہیں کرے گا۔ یہی اصولی مؤقف تھا جس نے امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کیا اور بالآخر نئی دہلی جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔یہ جنگ بندی کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ پاکستان کی عسکری، سفارتی اور قومی مزاحمت کی جیت تھی۔ بھارت کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ میدانِ جنگ میں شکست خوردہ فریق نے پسپائی اختیار کی۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی، اور یورپی یونین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور بھارت سے کہا کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے۔آپریشن بنیان المرصوص نہ صرف ایک عسکری مہم تھی بلکہ قومی خودداری اور ریاستی تدبر کی ایک مثال بھی تھا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا اس کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس پوری کارروائی میں جس قسم کی فوجی حکمتِ عملی، سیاسی ہم آہنگی، اور سفارتی تدبر کا مظاہرہ کیا گیا، وہ پاکستان کی ریاستی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ بحران ختم ہوا، لیکن اپنے پیچھے کئی سوالات اور اسباق چھوڑ گیا۔ بھارت کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان اب 90 کی دہائی کا ملک نہیں رہا۔ نئی دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افواج، باصلاحیت قیادت، اور عوامی حمایت نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر طاقت میں بدل دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ بھارت جنگی جنونیت سے باز آئے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔پاکستان نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اب دنیا کی باری ہے کہ وہ بھارت کی انتہاپسندی، ریاستی دہشت گردی اور جھوٹے پراپیگنڈے کا محاسبہ کرے۔