سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
خوراک وادویات کی بندش اورطبی عملے پرحملے کی خبروں سے اب مغربی ممالک کے عوام میں انتہائی بے چینی پیداہوگئی ہے اوراسرائیل کے خلاف میڈیاپربھی شدیدتشویش اور اسرائیل کے خلاف اپنی حکومتوں سے فوری کاروائی کرنے کے مطالبات زور پکڑچکے ہیں۔فلسطینی علاقوں میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش پہلے سے جاری ہے۔
بین الاقوامی قانون کے کئی بنیادی اصول اسرائیل کی غزہ میں موجودہ پالیسی سے متصادم ہیں۔چوتھاجنیواکنونشن1949شہریوں کے تحفظ سے متعلق ہے۔اس کے مطابق شہری آبادی پرحملے ممنوع ہیں۔طبی عملے،ہسپتالوں،خوراک اورپانی کی رسائی کوبندکرناجنگی جرم تصورہوتاہے کیونکہ اجتماعی سزاغیرقانونی ہے۔ آئی سی سی اس گھناؤنے جرم پربین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف قانونی کاروائی کرسکتی ہے۔
اقوام متحدہ بارہاغزہ کی صورتحال کو’’انسانی بحران‘‘قراردے چکی ہے۔سیکریٹری جنرل نے فوری جنگ بندی کامطالبہ کرتے ہوئے کئی مرتبہ اسرائیل کو تنبیہ کی ہے۔اگراسرائیل غزہ میں مستقل کنٹرول قائم کرتاہے توفردِجرم عائدہوسکتی ہے۔دیگرریاستوں پربھی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ جنگی جرائم کی حمایت نہ کریں بلکہ انسانیت سوزمظالم پرسفارتی، اقتصادی یاقانونی اقدامات کریں۔
اسرائیل کے مسلسل انسانیت کے خلاف جرائم پربالخصوص اس کے اتحادیوں کاردعمل بھی سامنے آناشروع ہوگیاہے۔برطانیہ، فرانس اورکینیڈانے اسرائیل کی حکمت عملی کوشدید تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے جنگ بندی کامطالبہ کیاہے۔ان ممالک کاکہناہے کہ خوراک کی محدودفراہمی اورفوجی کارروائیوں کاپھیلاناقابل قبول ہے۔روایتی اتحادیوں کی مخالفت سے ظاہرہوتاہے کہ اسرائیل بین الاقوامی برادری میں سفارتی طورپرتنہاہوتاجارہاہے۔تینوں ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں بنیادی پیغام جاری کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی آپریشنزکے پھیلاؤکی شدیدمخالفت کی ہے، جس سے مرادغزہ کے مزیدعلاقوں پرقبضہ یافوجی کارروائیوں کی شدت میں اضافہ ہے۔ان کااصرارہے کہ انسانی المیے کی شدت ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے،جس میں شہری اموات،طبی سہولیات کاتباہ ہونا،وربے گھرہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعدادشامل ہے۔
تینوں ممالک نے نیتن یاہوحکومت کی جانب سے غزہ میں خوراک کی فراہمی کوناکافی اورانتہائی محدودقراردیاہے۔بین الاقوامی اداروں کے مطابق،غزہ کی22لاکھ آبادی غذائی قلت،صاف پانی کی کمی،اورادویات کے بحران کاشکارہے۔عالمی فوڈ پروگرام نے خبردارکیاہے کہ غزہ میں قحط نماحالات پیداہوچکے ہیں۔اسرائیل کامحاصرہ اورامدادی ٹرکوں کو روکناجنیواکنونشنزکی خلاف ورزی ہے،جوفوجی تنازعات کے دوران شہریوں کوبنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ضمانت دیتاہے۔
برطانیہ،فرانس،اورکینیڈاجیسے اتحادی ممالک نے اسرائیلی حکمت عملی کی مخالفت کی ہے اورجنگ بندی کامطالبہ کیاہے۔یہ ممالک اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ اسرائیلی اقدامات انسانی المیے کوبڑھارہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کی گئی ہیں،لیکن امریکاکی ویٹوپاورنے انہیں روک دیاہے۔ برطانیہ ،فرانس اورکینیڈانے اسرائیل کی نئی حکمت عملی کوواضح طورپرمستردکیاہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے اپنے ممالک کے عوام کے شدیددباؤکے بعداسرائیل کے تین قریبی اتحادیوں برطانیہ ،فرانس اورکینیڈاکا مشترکہ ردعمل اوربین الاقوامی سفارتی دباسامنے آیاہے جس میں انہوں نے عالمی میڈیاکوایک بیان جاری کیاہے:’’ہم غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کے پھیلاؤکی شدیدمخالفت کرتے ہیں۔وہاں انسانی المیے کی شدت ناقابل برداشت ہوچکی ہیــ‘‘۔یہ عالمی دباؤاسرائیل کوسفارتی سطح پرمزیدتنہاکرسکتاہے۔یہ تین ممالک اسرائیل کے روایتی اتحادی ہیں۔ان کی مخالفت ظاہرکرتی ہے کہ اسرائیلی پالیسی کواب مغربی حمایت حاصل نہیں رہی۔یہ ایک سفارتی تنہائی کی علامت ہے۔
اسرائیل کی غزہ پرمکمل قبضے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اوراس کے سنگین نتائج برآمدہوسکتے ہیں۔ اسرائیل کوحماس کی شکست اوریرغمالیوں کی واپسی میں توازن پیداکرناہوگاکیونکہ دونوں اہداف بیک وقت حاصل کرناممکن نہیں۔ اسرائیل کی موجودہ پالیسی نہ صرف سیاسی طورپرمتنازع ہے بلکہ قانونی اوراخلاقی لحاظ سے بھی خطرناک ہے۔حماس کوکمزور کرنے کی آڑمیں اگرعام شہریوں کونشانہ بنایاجائے،تویہ عالمی سطح پرناقابل قبول ہوگا۔
اقوام متحدہ،یورپی یونین،اورانسانی حقوق کی تنظیموں کوچاہیے کہ وہ صرف مذمت پراکتفانہ کریں بلکہ عملی اقدامات کریں جیسے اسلحے کی فراہمی پرپابندی،تحقیقات کیلئے خصوصی کمیشن ، آئی سی سی میں مقدمات کی شروعات سے آغازہوناچاہئے۔عالمی برادری،خاص طورپرمغربی ممالک،کوچاہیے کہ وہ صرف زبانی مذمت کی بجائے ٹھوس سفارتی دباڈالیں۔انسانی امدادکی فراہمی فوری طورپربڑھائی جانی چاہیے تاکہ قحط اورطبی بحران سے بچاجاسکے۔
اقوام متحدہ کے چارٹرآرٹیکل2(4)کسی ریاست کو دوسرے علاقے میں طاقت کے استعمال یاقبضے کااختیارنہیں دیتا۔اسرائیل2005 میں غزہ سے فوجی انخلاکرچکاہے،اس لئے اب وہاں دوبارہ قبضہ ایک جارحانہ عمل شمارہوگا۔اگرغزہ پرقبضہ طویل مدتی رہاتویہ استعمارکے زمرے میں آئے گا۔خوراک،پانی،اورطبی امدادپربندش عالمی قانون کے مطابق انسانیت کے خلاف جرم ہوسکتاہے۔غزہ میں قحط جیسی صورتحال اسرائیلی ناکہ بندی کانتیجہ ہے۔نیتن یاہو کی ظالمانہ حکمت عملی ایک طرف داخلی سیاسی بقااورعسکری فتح کے خواب سے جڑی ہے،جبکہ دوسری طرف یہ بین الاقوامی قانون،انسانی حقوق اورعالمی برادری کے اصولوں سے متصادم ہے۔غزہ پرفوجی قبضہ اورانسانی امدادکی بندش نہ صرف قانونی طور پرناقابلِ قبول ہے بلکہ اخلاقی وانسانی لحاظ سے بھی شدیدتنقیدکے لائق ہے۔اگرعالمی ادارے اور طاقتورریاستیں فوری اقدامات نہ کریں،تواس بحران کے اثرات علاقائی امن،عالمی ضمیراورقانونی نظام پردیرپانقوش چھوڑسکتے ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے دبابڑھنے سے اسرائیل پربین الاقوامی تنقیدکادائرہ وسیع ہواہے،جس میں جرمنی جیسے قریبی اتحادی بھی شامل ہیں۔برطانیہ،فرانس،اورکینیڈاکامشترکہ مقف اسرائیل کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ غزہ میں فوجی توسیع اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرعالمی حمایت کھورہاہے۔تاہم،امریکاکی حمایت اورنیتن یاہوکی سختی کے پیشِ نظرفوری جنگ بندی کا امکان کم ہے۔اگراسرائیل امدادکی راہ میں رکاوٹیں ختم نہیں کرتاتو بین الاقوامی تنہائی اورمعاشی پابندیاں بڑھ سکتی ہیں۔تینوں ممالک کاجنگ بندی کامطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب تک اس معاملے پرمؤثراقدامات نہیں کرسکی،جس کی بڑی وجہ امریکاہے۔برطانیہ،فرانس،اورکینیڈاجیسے ممالک اگرچاہیں توبین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف مقدمہ دائرکرسکتے ہیں۔عالمی عدالت انصاف پہلے ہی فلسطین میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش کررہاہے،اوراسرائیلی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ جاری کرنے کااختیاررکھتاہے۔اگروہ ایسانہیں کرتے تویقیناان کے اپنے عوام آئندہ انتخابات میں ان کامحاسبہ کرکے ان سے جان چھڑاسکتے ہیں۔
یہ بھی یادرکھیں!جہاں خوراک کادانہ اوردواکاقطرہ بھی اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث مظلوم فلسطینیوں سے چھین لیاگیا ہو،وہاں مغرب کے عوام کی نیندیں بھی حرام ہوچکی ہیں۔عالمی ادارے چیخ رہے ہیں کہ غزہ کی فضاقحط،پیاس اور بیماری کے اندھیروں سے لبریزہے،جہاں ہردن،یومِ محشرہے،اورہر رات،لیلہ الاحزان۔
چوتھاجنیواکنونشن،جوشہریوں کے تحفظ کی کتابِ عہدہے،آج اسرائیلی طغیانی کے ہاتھوں تارتارہورہاہے۔اجتماعی سزا، طبی سہولتوں کی بندش،اورخوراک کی قلت، یہ سب وہ جرائم ہیں جن کے خلاف دنیاکی عدالتیں قاصدبن کراٹھ کھڑی ہوئیں ہیں۔جب برطانیہ،فرانس،اورکینیڈاجیسے قدیم اتحادی بھی اسرائیلی جارحیت کی مخالفت پرآمادہ ہوجائیں،تو یہ اس امرکااعلان ہے کہ اسرائیل،اب سفارتی تنہائی کے اندھے غارمیں قدم رکھ چکاہے۔ان اقوام کامشترکہ اعلامیہ گویاتازیانہ ہے جونیتن یاہو کی پالیسیوں پربرساہے۔گویا ان ممالک کی زبانِ حال یہ پکاررہی ہے:
اے ظالم نیتن یاہو!رک جا۔تیرے ہتھیارانسانیت کے سینے میں پیوست ہیں۔خوراک،دوا،پانییہ جنگ کاایندھن نہیں،مظلوم کی زندگی کاسہاراہیں ۔ اگرتونہ رکا،تونہ فقط مظلوم کاخون،بلکہ تاریخ بھی تیراگریبان پکڑے گی۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ عالمِ مغرب کی روایتی حمایت،اب صرف ایک غبارہے جوتندآندھی میں اڑچکی ہے۔اوراقوامِ متحدہ، جن کے ہونٹوں پرامن کانغمہ اوردل میں بے بسی کازخم ہے،جس کوامریکاکی بھڑکتی آگ ویٹونے راکھ کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔لیکن کب تک؟کہیں ایسانہ ہوکہ اس اقوام متحدہ کا انجام بھی لیگ آف نیشنزکی طرح ہوجائے اورپھردنیاکسی پراعتبار کرناچھوڑدے۔
یادرکھیں!اگر ہمارے دل میں رمقِ احساس باقی ہے، تو جان لیجئے کہ فلسطین کا ہر معصوم چہرہ، ہر یتیم آنکھ، ہر شہید کی ماں زمانے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، جو اس وقت تک گونجتا رہے گا جب تک عدل کی ساعت نہ آ جائے، اور باطل، اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔