ہالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات، جن میں انجلینا جولی، رابرٹ ڈی نیرو، مورگن فری مین، شیرون اسٹون، مائیکل ڈگلس اور دیگر اداکار و فلم ساز شامل ہیں، کی ذاتی رابطہ معلومات مبینہ طور پر ایک بڑے ڈیٹا لیک میں سامنے آ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مبینہ ڈیٹا لیک ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے منسلک ایک ڈیٹا بیس سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد میں فلم ساز مارٹن اسکورسیزی، جارج لوکاس، ڈینی بوائل اور اداکار جینیفر لارنس، ونونا رائیڈر، نیل پیٹرک ہیرس اور رامی مالک سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق سائبر سیکیورٹی ماہر جیریمیا فاؤلر نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ پر غیر محفوظ حالت میں موجود چار ڈیٹا بیسز میں تقریباً 6 لاکھ 66 ہزار ریکارڈز موجود تھے، جن کا تعلق 2019 سے 2026 کے دوران منعقد ہونے والے ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے تھا۔رپورٹ کے مطابق ان ریکارڈز میں نام، فون نمبرز، ای میل ایڈریسز اور دیگر حساس معلومات شامل تھیں۔ جیریمیا فاؤلر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جون میں شروع ہونے والے ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے قبل انتظامیہ کو اس ممکنہ سیکیورٹی مسئلے سے آگاہ کر دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ایک فولڈر میں بعض افراد کے استعمال میں موجود ڈیوائسز سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں، جن میں آئی فون کے ماڈل، سافٹ ویئر ورژن اور ویب براؤزر کے استعمال جیسی تفصیلات موجود تھیں۔ ان کے مطابق ایسی معلومات سائبر مجرموں کے لیے مزید حملوں کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
تاہم، معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق لیک ہونے والی زیادہ تر معلومات خود فنکاروں کی نہیں بلکہ ان کے منیجرز اور ٹیلنٹ ایجنٹس کی تھیں، جو فلم فیسٹیول کے دوران پیشہ ورانہ رابطوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا بیس میں محفوظ تھیں۔ٹریبیکا فلم فیسٹیول کی انتظامیہ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا سیکیورٹی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس مبینہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق نشاندہی کے بعد متعلقہ ڈیٹا بیسز کو عوامی رسائی سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ معلومات کتنے عرصے تک آن لائن دستیاب رہیں یا آیا کسی نے انہیں ڈاؤن لوڈ یا استعمال بھی کیا۔ دی ٹیلی گراف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ٹریبیکا فلم فیسٹیول براہِ راست اس مبینہ ڈیٹا لیک کا ذمہ دار تھا۔