ہالی وڈ کے جوڑے، بریڈ پٹ اور انجلینا جولی، کے درمیان فرانس کی ایک مشہور وائنری کے مالکیت سے متعلق قانونی تنازعہ ہے، جو 2022 سے جاری ہے۔
حال ہی میں لاس اینجلس سپیریئر کورٹ نے بریڈ پٹ کے حق میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے انجلینا جولی کو حکم دیا ہے کہ وہ کیس سے متعلق تمام پیغامات اور دستاویزات جو اب تک خفیہ رکھی گئی تھیں یا جن میں ترمیم کی گئی، انہیں اصل حالت میں عدالت میں جمع کروائیں۔ ان دستاویزات میں خاص طور پر وہ پیغامات شامل ہیں جو وکلاء کے علاوہ دیگر افراد کے درمیان بھیجے گئے تھے۔ عدالت نے انجلینا جولی کو 45 دن کے اندر یہ کام مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔بریڈ پٹ کے وکلاء کا مؤقف ہے کہ ان پیغامات سے یہ ثابت ہوگا کہ انجلینا جولی نے وائنری میں اپنے حصہ کی فروخت کے معاملے میں شفاف رویہ اختیار نہیں کیا اور ان کے ارادے معاہدے کے مطابق نہیں تھے، جس سے کاروبار کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، انجلینا جولی کے وکیل پال مرفی نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ کیلیفورنیا کے قوانین کے خلاف ہے اور جولی کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو متاثر کرتا ہے۔اس قانونی تنازعہ کی نوعیت بریڈ پٹ اور انجلینا جولی کے سابقہ ذاتی اور کاروباری تعلقات سے جڑی ہوئی ہے، اور عدالت کے حالیہ فیصلے سے بریڈ پٹ کو اہم قانونی برتری حاصل ہوئی ہے۔