مون سون بارشیں: وزیراعظم کا تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم، سیلابی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت

مون سون بارشیں: وزیراعظم کا تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم، سیلابی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور صوبائی حکومتوں کو باہمی رابطہ مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مون سون کی صورتحال اور متوقع بارشوں سے متعلق بروقت اطلاعات تمام متعلقہ اداروں تک پہنچائی جائیں تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی روزانہ کی بنیاد پر فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں اور صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کریں۔ وزیراعظم نے شمالی علاقوں میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) اور طغیانی کے خطرات کے پیش نظر پیشگی وارننگ سسٹم کو مکمل طور پر فعال رکھنے کی بھی ہدایت دی۔شہباز شریف نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ملک شدید متاثر ہو رہا ہے، اسی لیے حکومت قلیل، وسط اور طویل المدتی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔اجلاس کو این ڈی ایم اے، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے مون سون بارشوں، نقصانات، ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ دو روز کے دوران آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں مون سون بارشوں کے ایک بڑے اسپیل کا امکان ہے، جبکہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون کی ایک اور طاقتور لہر متوقع ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ مون سون اسپیل کے دوران اب تک 110 افراد جاں بحق، 360 زخمی ہوئے، 796 مکانات متاثر ہوئے جبکہ 376 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ایل نینو (El Niño) کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے آئندہ ایک ماہ کے دوران گلوف اور سیلابی ریلوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ممکنہ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کر کے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وسطی پنجاب، خصوصاً لاہور میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں زیر آب آنے والی زرعی زمینوں سے پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔

این ایچ اے نے بریفنگ میں بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والی 106 سڑکیں بروقت کارروائی کے ذریعے بحال کر دی گئی ہیں۔ وزارت آئی ٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ نیشنل ایمرجنسی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر فعال ہے اور کسی بھی موبائل فون سے ایمرجنسی کال پر ریسکیو 1122 فوری امدادی کارروائی کرتا ہے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ مون سون کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے ملک بھر میں 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ ذخیرہ شدہ پانی کو خشک موسم میں زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔وزیراعظم نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی بروقت پیشگی تیاری، ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جاری مون سون سیزن میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔