پاکستان نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری کا قومی فیصلہ کر لیا، شزا فاطمہ

پاکستان نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت میں خود انحصاری کا قومی فیصلہ کر لیا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت (AI) میں خود انحصاری حاصل کرنے کا قومی فیصلہ کر لیا ہے اور ملک مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ انڈس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، روزگار کے فروغ اور معاشی مسابقت کا بنیادی ذریعہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ذہین ٹیکنالوجیز کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس صنعت، زراعت، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر، قدرتی آفات سے نمٹنے اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔شزا فاطمہ کے مطابق مستقبل کی عالمی معیشت میں وہی ممالک قیادت کریں گے جو ان جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کریں گے، جبکہ پاکستان نے صرف ان ٹیکنالوجیز کا صارف بننے کے بجائے ان کی ترقی اور قیادت کا راستہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک نے آئی ٹی یو کی سائبر سیکیورٹی درجہ بندی، ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس اور آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں بھی نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، اختراعی نظام، اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کی جدید مہارتوں پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال تقریباً 10 لاکھ نوجوانوں کو بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں سے لے کر سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن جیسے جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی اے آئی پالیسی اور نیشنل اے آئی انیشی ایٹو کے تحت ڈیٹا، کمپیوٹنگ، محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے پورے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔شزا فاطمہ نے اس بات پر زور دیا کہ روبوٹکس کے فروغ کے لیے مزید سینٹرز آف ایکسیلنس، حقیقی ماحول میں آزمائشی مراکز، اسٹارٹ اپس کے لیے مالی معاونت، سرکاری خریداری کے مواقع اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مبنی شراکت داری ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اب صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجیز میں قومی مہارت اور خود انحصاری سے بھی وابستہ ہے، اور یہی شعبے ملک کو ترقی، اختراع اور معاشی استحکام کی نئی منازل تک پہنچائیں گے